نئی دہلی: راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت کے بعد ایک بڑی پارلیمانی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ سابق عام آدمی پارٹی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا کی عرضی کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری 20 مئی 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کی جانب سے کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کے دوران کیا گیا۔ راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق کمیٹی کی تشکیلِ نو کے تحت 10 دیگر ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ راگھو چڈھا کے علاوہ ہرش مہاجن، غلام علی، شنبھو شرن پٹیل، مینک کمار نائک، مستان راؤ یادو بیدھا، جے بی ماتھر ہشام، سبھاشیش کھونٹیا، وی نرزری اور سنتوش کمار پی کو کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق راگھو چڈھا کی بطور چیئرمین تقرری فوری اثر سے نافذ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب لوک سبھا سے متعلق ایک الگ نوٹیفکیشن میں اسپیکر کی جانب سے اروند ساونت کو کارپوریٹ قانون ترمیمی بل پر قائم مشترکہ کمیٹی میں نامزد کیے جانے کی بھی اطلاع دی گئی ہے، جو 21 مئی سے مؤثر ہوگی۔ پارلیمانی نظام میں عرضی کمیٹی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ کمیٹی عوام کی جانب سے پارلیمنٹ کو بھیجی جانے والی درخواستوں اور شکایات کا جائزہ لیتی ہے۔ کمیٹی مختلف قوانین، سرکاری پالیسیوں اور انتظامی فیصلوں سے متعلق عوامی مسائل پر غور کرتی ہے اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرتی ہے۔ اس نظام کے ذریعے عام شہریوں کو اپنی مشکلات براہِ راست پارلیمنٹ تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے، جسے جمہوری نظام کی ایک اہم کڑی تصور کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ راگھو چڈھا پہلے عام آدمی پارٹی کے اہم لیڈروں میں شمار کیے جاتے تھے اور وہ پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ تاہم 24 اپریل 2026 کو انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ان کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے دو تہائی سے زائد راجیہ سبھا ارکان نے بھی پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کے بعد بھارتی سیاست میں زبردست ہلچل مچ گئی تھی۔
پارٹی چھوڑنے کے بعد راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی کی قیادت، خصوصاً پارٹی سربراہ اور دیگر سینئر لیڈروں پر کئی سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی میں داخلی جمہوریت کمزور ہو چکی ہے اور فیصلے محدود حلقے تک سمٹ گئے ہیں۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے لیڈروں نے بھی راگھو چڈھا اور دیگر باغی ارکان پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ باغی اراکین نے سیاسی دباؤ اور بی جے پی کے خوف کی وجہ سے پارٹی چھوڑی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا کی اہم کمیٹی کی سربراہی ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بی جے پی انہیں مستقبل میں بھی اہم سیاسی کردار دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…