نئی دہلی: پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) نے 31 مارچ 2026 کو پی ایچ ڈی ہاؤس میں ہائیڈروکاربن سمٹ 2026 کا انعقاد کیا، جس میں سرکاری عہدیداران، ریگولیٹرز، تیل و گیس صنعت کے رہنما اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی۔ سمٹ میں عالمی توانائی بحران کے تناظر میں بھارت کی توانائی سلامتی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور درآمدی انحصار میں کمی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی اے کے تیواری نے کہا کہ موجودہ عالمی بحران نے بھارت کو اپنی توانائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں کوئلہ، قابلِ تجدید توانائی اور تیل و گیس کے وافر وسائل موجود ہیں، جنہیں بہتر حکمت عملی کے ذریعے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گیس پائپ لائن نیٹ ورک کی توسیع، کمپریسڈ بایو گیس پلانٹس کے قیام میں تیزی اور گھریلو پیداوار بڑھانے کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا۔
توانائی ڈھانچے اور پیداوار میں توسیع کی ضرورت
سمٹ کے دوران مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ اب بھی درآمدات سے پورا ہوتا ہے، جس کے باعث عالمی بحرانوں کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ او این جی سی کے ڈائریکٹر اشوک کمار نے کہا کہ ملکی پیداوار اس وقت مجموعی ضرورت کا تقریباً 10 فیصد ہی پورا کرتی ہے، اس لیے سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ اسی طرح سندیپ جین نے کہا کہ ملک کی تیز معاشی ترقی کے باعث توانائی کی کھپت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو 2040 اور 2047 تک مزید بڑھے گا، لہٰذا توانائی کے ذرائع میں تنوع اور اسٹریٹجک ذخائر کی توسیع ضروری ہے۔
گیس انفراسٹرکچر اور متبادل توانائی پر توجہ
انجن کمار مشرا نے بتایا کہ حکومت نے حالیہ بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں، خاص طور پر ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی احکامات جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ممکن ہو، ایل پی جی سے پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کی طرف منتقلی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور اب تک تقریباً 1.65 کروڑ PNG کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجے سردانا نے بھی کہا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان بہتر تال میل کے باعث پالیسی اصلاحات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ ایتھنول مکسنگ بڑھانے اور پائپ لائن نیٹ ورک کو وسعت دینے پر بھی کام جاری ہے۔
سمندری شعبہ اور مستقبل کی حکمت عملی
پون کمار گپتا نے بتایا کہ شپنگ اور بحری شعبہ بھی اس بحران کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے اور نئی سپلائی روٹس تلاش کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے فلوٹنگ اسٹوریج اور ایف ایس آر یو جیسے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ سمٹ کے اختتام پر ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ بھارت کی تقریباً 85 فیصد توانائی ضروریات درآمدات پر منحصر ہیں، اس لیے طویل مدتی توانائی سلامتی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے 2030 تک 500 گیگا واٹ قابلِ تجدید توانائی کے ہدف کا بھی ذکر کیا۔ آخر میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سمٹ کی سفارشات کو پالیسی دستاویز کی شکل دے کر جلد حکومتِ ہند کو پیش کیا جائے گا، تاکہ ملک کی توانائی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…