قومی

Mehbooba Mufti hits back at Giriraj Singh: ’’دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنا گمراہ کن‘‘ محبوبہ مفتی کا گری راج سنگھ کو سخت جواب، کہا-’’گاندھی جی، اندرا اور راجیو کو کس نے مارا؟‘‘

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ایک متنازع بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی یا مجرمانہ کارروائیوں کو کسی ایک مذہب سے جوڑنا غیر منصفانہ اور گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق اگر گری راج سنگھ کے معیار کو دیکھا جائے، تو پھرحال ہی میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے قتل اور سانحات پر بھی سوال اٹھانے ہوں گے۔

گری راج سنگھ کے بیان پر محبوبہ کا سخت ردعمل

فرید آباد میں 360 کلو بارودی مواد اور اسلحہ برآمد ہونے کے بعد دو ملزمان کی گرفتاری پر گری راج سنگھ نے تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے معاملات میں ’’ہمیشہ ایک ہی کمیونٹی‘‘ کے لوگ پکڑے جاتے ہیں۔ اس پر محبوبہ مفتی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’’گری راج جی سے پوچھیں کہ مہاتما گاندھی کو کس نے قتل کیا؟ اندرا گاندھی کو کس نے مارا؟ راجیو گاندھی کے قتل میں کون شامل تھا؟ پہلے اس کے جواب دیں، پھر بات کریں۔‘‘

’’دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑنا خطرناک‘‘

محبوبہ مفتی نے کہا کہ ملک کی سیاست کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق: ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ اگر مجرمانہ کارروائی پر بحث ہونی ہے تو اسے ثبوتوں اور تفتیش کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ مذہبی بنیاد پر۔ اس طرح کے بیان قوم کے اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے خلاف ہیں۔‘‘

’’ہر بار ایک ہی کمیونٹی کا شخص پکڑا جاتا ہے‘‘

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ایک بیان میں 1993 ممبئی دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’اگر یہ بارودی مواد بابا باگیشور کی یاترا کے دوران استعمال ہوتا تو کیا ہوتا؟ ہر بار جب ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں تو وہ ایک خاص کمیونٹی سے ہوتے ہیں… اس بار بھی ایک مسلم ڈاکٹر گرفتار ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے ساتھ ہی اپوزیشن لیڈروں راہل گاندھی، لالو پرساد یادو، اکھلیش یادو اور اسد الدین اویسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’یہ لوگ اس معاملے پر کچھ نہیں بولتے‘‘۔

پولیس کارروائی اور برآمدگی

یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر پولیس نے ہریانہ کے فرید آباد علاقے سے آتش گیر مواد اور گولہ بارود کی بڑی مقدار برآمد کی۔ اس کارروائی کے دوران دو افراد، ڈاکٹر مزمل اور عادل راتھر کو گرفتار کیا گیا۔

سیاست میں ’’بیانیہ کی جنگ‘‘

محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات نہ صرف ملک کی گنگا-جمنی تہذیب کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ سماجی تقسیم کو بھی گہرا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ وقت نفرت بڑھانے کا نہیں، بلکہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے۔ سیاسی فائدے کے لیے مذہبی منافرت پھیلانا ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Maharasthra MLC Election Result: بی جے پی کو جھٹکا، ناگپور گریجویٹ سیٹ پر کانگریس کی جیت، ابھیجیت ونجاری پھر بنے ایم ایل سی

ابھیجیت ونجاری نے 2020 میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے امیدوار کے طور…

10 minutes ago

Heavy Rainfall Alert: ملک کی 23 ریاستوں میں بارش اور آندھی کا الرٹ، 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں ہوائیں

مانسون کی واپسی کے فوراً بعد محکمہ موسمیات (IMD) کے حوالے سے شدید طوفان، بارش…

43 minutes ago

A Vision for Mumbai’s Future Gateway: ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر، 60 سال پرانی عمارت کی جگہ بنے گا جدید ’گیٹ وے‘

دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…

10 hours ago