قومی

Epstein row controversy: پون کھیڑا کا ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ، کہا-’’ایپسٹین تنازع کے بعد انہیں عہدے پر رہنے کا حق نہیں‘‘

نئی دہلی: کانگریس رہنما پون کھیڑا نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین سے روابط کے معاملے پر وہ ’’اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اہل نہیں‘‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں وزیر نے ’’صرف جھوٹ بولا‘‘ ہے اور کانگریس اس معاملے کو عوام کے سامنے اٹھائے گی۔ پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ہردیپ سنگھ پوری کے حالیہ انٹرویوز متضاد اور گمراہ کن ہیں۔ ان کے مطابق وزیر نے کہا کہ ’’اگر کچھ ہوا ہوتا تو میں بتا دیتا‘‘ جسے کھیڑا نے ’’حیران کن ذہنیت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین فائلز سے متعلق تنازع میں کئی ممالک کے رہنماؤں نے استعفے دیے ہیں اور اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ہردیپ سنگھ پوری کے نام بھی زیر بحث آئے ہیں۔

ایپسٹین سے متعدد ملاقاتوں کا دعویٰ

کھیڑا نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہردیپ سنگھ پوری کی ایپسٹین سے صرف ایک ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے وزیر کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں کہا گیا تھا کہ ملاقات کے مقام کا انہیں علم نہیں تھا کیونکہ ڈرائیور لے جا رہا تھا اور راستے میں انہوں نے انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کیں۔ کھیڑا نے سوال کیا کہ کیا اس وقت وزیر کم عمر تھے کہ انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہ تھا؟

مجرمانہ ریکارڈ اور پالیسی پر سوالات

کانگریس رہنما نے کہا کہ 2008 میں عدالت میں اعتراف جرم کے باوجود 2014 میں بھی وزیر کو ایپسٹین کے مجرمانہ ریکارڈ پر ’’شکوک‘‘ تھے، جو ان کے بقول اخلاقی معیار پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ نومبر 2014 میں ایپسٹین نے ایک ای میل کے ذریعے ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ سے متعلق معلومات شیئر کیں، حالانکہ اس مہم کا باضابطہ آغاز جولائی 2015 میں ہوا اور پوچھا کہ کیا اس سے پہلے معلومات فراہم کی گئی تھیں؟ کھیڑا نے خارجہ پالیسی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ بعض علاقائی فیصلوں پر ایپسٹین کے اثر و رسوخ کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہردیپ سنگھ پوری کا یہ کہنا کہ انہوں نے کبھی ایپسٹین سے بات نہیں کی، درست نہیں۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

16 minutes ago

PM Modi congratulates ‘dear friend’ Lula da Silva: وزیر اعظم مودی نے ’عزیز دوست‘ لولا کو برازیل کے صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارک دی باد

صدر لولا فروری 2026 میں ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس دوران حیدرآباد ہاؤس…

52 minutes ago

Setback for Team India: ٹیم انڈیا کو جھٹکا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ سے بھی باہر ہوئے ایشان کشن

ایشان کشن کی جگہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ویبھَو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون…

2 hours ago

Cyclonic Storm ‘Arnab’ in the Bay of Bengal: خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’ارنَب‘، بھارت میں ہائی الرٹ، ان ریاستوں میں دکھائی دے گا اثر

سمندری طوفان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اڈیشہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں قومی…

3 hours ago