قومی

CJI Office Received 8630 Complaints Against Judges: گزشتہ 10 برسوں میں ججوں کے خلاف 8,360 شکایات ہوئیں موصول، حکومت نے لوک سبھا میں دی جانکاری

نئی دہلی: قانون و انصاف کے مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف مجموعی طور پر 8,360 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یہ معلومات جمعہ کو دراوڑ منیتر کڑگم (ڈی ایم کے) کے رکنِ پارلیمنٹ مَتھیشورَن وی ایس کے ایک تحریری سوال کے جواب میں دی گئیں، جس میں انہوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف بدعنوانی، جنسی ہراسانی اور دیگر سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق موصول شکایات کی تفصیل طلب کی تھی۔ وزارتِ قانون کی جانب سے فراہم کردہ جواب میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2016 سے 2025 کے درمیان چیف جسٹس آف انڈیا کے دفتر کو 8,360 شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم، ان شکایات پر کیا کارروائی کی گئی، اس بارے میں کوئی واضح معلومات پیش نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان شکایات کے ازالے یا ان کی نگرانی سے متعلق کوئی جامع ریکارڈ یا ڈیٹا بیس کیوں موجود نہیں ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ مَتھیشورَن نے اپنے سوال میں یہ بھی جاننا چاہا تھا کہ آیا ان شکایات پر کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں لائی گئی یا نہیں، لیکن وزارت کے جواب میں اس پہلو پر خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے علاوہ یہ وضاحت بھی نہیں دی گئی کہ شکایات سے متعلق کارروائی کا باضابطہ ریکارڈ کیوں دستیاب نہیں ہے، جس سے شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

ایک ضمنی سوال کے جواب میں حکومت سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا مرکز کو اس نظام یا طریقۂ کار کی معلومات ہیں جس کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف بدعنوانی، جنسی ہراسانی یا دیگر سنگین الزامات سے متعلق شکایات کا ریکارڈ یا ڈیٹا بیس برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس پر وزارت نے جواب دیا کہ بھارت کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس، اِن ہاؤس پروسیجر کے تحت ججوں کے خلاف موصول شکایات کو قبول کرنے اور ان پر غور کرنے کے مجاز ہیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے اراکین کے خلاف سینٹرلائزڈ پبلک گریوینس ریڈریسل اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (CPGRAMS) یا کسی اور ذریعے سے موصول ہونے والی شکایات کو چیف جسٹس آف انڈیا یا متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ارسال کر دیا جاتا ہے۔ تاہم، اس نظام کے تحت شکایات کی نگرانی یا نتائج کی عوامی دستیابی کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیرِ قانون نے اس سوال کا بھی براہِ راست جواب نہیں دیا کہ آیا حکومت اعلیٰ عدلیہ کے اراکین کے خلاف شکایات کی منظم ریکارڈنگ، مسلسل نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی نئی گائیڈ لائن جاری کرنے یا عملی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد عدالتی نظام میں شفافیت اور احتساب کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Lucknow & Andaman Islands are symbols of courage: لکھنؤ اور انڈمان برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت: ڈاکٹر دنیش شرما

سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی…

31 minutes ago

President’s Police Colour: وزیرداخلہ امت شاہ نے اتراکھنڈ پولیس کو باوقار ’صدرجمہوریہ پولیس کلر‘ اعزاز سے نوازا

امت شاہ نے کہا ہے کہ میں دیوبھومی کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں…

2 hours ago

Sharad Pawar-Praful Patel Meeting: شرد پوار-پرفل پٹیل کی ملاقات سے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، کیا دونوں این سی پی پھر آئیں گی ایک ساتھ؟

اجیت پوارکے انتقال سے پہلے اجیت پوارگروپ اوراین سی پی-شرد چندرپوارکے لیڈران کے درمیان انضمام…

2 hours ago