پنچکولہ کے سیکٹر 20 میں واقع سرکاری سنسکرتی ماڈل اسکول میں 28 اکتوبر کو پیش آنے والے ایک واقعے نے اسکولوں میں بچوں کی حفاظت سے متعلق کئی سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہاں تیسری جماعت میں پڑھنے والے ایک طالب علم نے مبینہ طور پر کے جی میں زیرِ تعلیم ایک خصوصی صلاحیتوں کی حامل بچی پر پتھروں اور گملے سے حملہ کردیا۔ اس حملے میں بچی شدید زخمی ہوگئی۔ حالت بگڑنے پر ڈاکٹروں نے اسے چنڈی گڑھ کے پی جی آئی ریفر کردیا۔
موصولہ معلومات کے مطابق، یہ پورا واقعہ اسکول کے احاطے میں پیش آیا۔ بتایا جارہا ہے کہ کسی بات پر تیسری جماعت کے طالب علم نے کے جی کی بچی پر حملہ کردیا۔ اس نے پہلے بچی کو پتھروں سے زخمی کیا اور پھر قریب رکھا ہوا گملا اٹھا کر اس پر وار کیا۔ حملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچی کے بے ہوش ہوجانے کے بعد بھی مبینہ طور پر طالب علم نے حملہ جاری رکھا۔ الزام ہے کہ بچی کے بے سدھ ہوجانے کے باوجود اس پر پتھر برسائے گئے۔ اتنا ہی نہیں، طالب علم اسے کافی دیر تک گھسیٹتا بھی رہا۔ اسکول کے اندر کم عمر بچوں کے درمیان پیش آنے والے اس واقعے نے سبھی کو حیران کردیا ہے۔
تشویشناک حالت میں بچی کو پی جی آئی چنڈی گڑھ ریفر کیا گیا
واقعے کے بعد زخمی بچی کو فوری طور پر پنچکولہ کے سیکٹر 6 میں واقع شہری اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا ابتدائی علاج کیا۔ تاہم بچی کی حالت سنگین دیکھتے ہوئے اسے بہتر علاج کے لیے چنڈی گڑھ کے پی جی آئی ریفر کردیا گیا۔ فی الحال بچی کی صحت سے متعلق تشویش برقرار ہے۔
پولیس نے اسکول پہنچ کر تحقیقات شروع کیں
معاملے کی اطلاع ملتے ہی سیکٹر 20 تھانے کی پولیس حرکت میں آگئی۔ تھانہ انچارج یش دیپ اور تفتیشی افسر پردیپ کمار پولیس ٹیم کے ساتھ اسکول پہنچے۔ پولیس افسران نے اسکول انتظامیہ سے واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور پورے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی مبینہ طور پر حملہ کرنے والے طالب علم کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ آخر ایسی کون سی صورتِ حال پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں اتنی کم عمر کے بچے نے اپنے ہی اسکول کی ایک چھوٹی بچی کے ساتھ اس طرح کا پرتشدد رویہ اختیار کیا۔ وہیں بچی کے والد راشد نے اس افسوناک واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ ’’اس وقت جو انہونی ہونا تھی وہ ہو گئی، تہوار کی وجہ سے کلاس میں ٹیچر تھیں نہیں اب میں اس کے لیے کس کو مورد الزام ٹہرا سکتا ہوں، میں بچی کی صحت کے سلسلے میں کافی فکر مند ہوں کہ کسی طرح سے بس میری بچی بچ جائے۔‘‘
اسکولوں میں بچوں کی حفاظت پر سوالات
اس واقعے نے ایک بار پھر اسکولوں میں بچوں کی حفاظت اور ان کی نگرانی کے انتظامات پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اس یقین کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں کہ وہاں ان کی دیکھ بھال ہوگی اور وہ محفوظ رہیں گے۔ ایسے میں اسکول کے احاطے میں اس طرح کا سنگین واقعہ پیش آنا تشویش کا باعث ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کے مفاد اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو گجرات کے ضلع نرمدا کے ایکتا نگر میں…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو وارانسی سے اتر پردیش کی پہلی وندے بھارت…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سال 2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں۔…
امیدواروں کی پہلی فہرست جاری ہونے کے ساتھ ہی پنجاب کی انتخابی سیاست میں عام…
نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا (این بی ٹی) کے دفتر میں 26 سالہ خدمات انجام…