پاکستان کی لائن آف کنٹرول پر گولہ باری
جموں: ہفتہ کے روز مسلسل نویں دن، پاکستانی فوج نے جموں و کشمیر میں ایل او سی (لائن آف کنٹرول) سے متصل ہندوستانی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ 2 اور 3 مئی کی درمیانی شب پاکستانی فوج نے کپواڑہ، اڑی اور اکھنور علاقوں میں چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ ہندوستانی فوج نے فوری اور مناسب جواب دیا۔
22 اپریل کو پہلگام کے بیسرن میں پاکستان کے حمایت یافتہ لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں 25 سیاحوں اور ایک مقامی سمیت 26 بے گناہ لوگ مارے گئے۔ اس وحشیانہ قتل کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اس واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان دہشت گردوں، ان کے مددگاروں اور حامیوں کو کہیں سے بھی ڈھونڈ کر سزا دی جائے گی۔
پیر کے روز وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ 40 منٹ تک میٹنگ کی۔ اس سے پہلے انہوں نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے فوج کی تیاریوں کی مکمل جانکاری لی تھی۔
وزیر اعظم مودی نے پہلگام حملے کا بدلہ لینے کے لیے فوج کو ضروری کارروائی کرنے کی مکمل آزادی دی ہے۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے ساتھ سری نگر میں سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے فوج سے کہا کہ وہ پوری قوت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ وہیں، پیر کے روز جموں و کشمیر اسمبلی نے بھی متفقہ طور پر اس گھناؤنے حملے کی مذمت کی اور ایک قرارداد پاس کی۔
ہندوستان نے اٹاری واگھہ بارڈر بند کر دیا، پاکستانی شہریوں کو ملک سے نکال دیا، سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا اور پاکستانی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی۔
اس کے جواب میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ شملہ معاہدے کی مزید پاسداری نہیں کرے گا اور اس نے لائن آف کنٹرول کو بھی نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے جموں و کشمیر میں دونوں ممالک کے درمیان حقیقی بارڈر سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…