قومی

The Echo of the Tricolor in Kashmir’s Valleys: پہلگام میں’ترنگا اور ہم آہنگی مارچ‘ نے پوری وادی کو قومی پرچم کے رنگوں سے سجا دیا، ایک ملک، ایک پرچم اور ایک قانون کے تحت کشمیر نے دنیا کو امن و ہم آہنگی کا دیا پیغام

سری نگر: یوم آزادی کے موقع پر کشمیر کی وادیوں میں ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملا۔ مسلم راشٹریہ منچ (MRM) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے زیر اہتمام پہلگام میں خصوصی ’ترنگا اور ہم آہنگی مارچ‘ منعقد ہوا جس نے پوری وادی کو قومی پرچم کے رنگوں سے سجا دیا۔ ہر ہاتھ میں ترنگا، ہر دل میں حب الوطنی کا جذبہ اور ہر زبان پر ’ بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ یہ صرف ایک جلوس نہیں بلکہ ایک طاقتور اعلان تھا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

اتحاد کا پیغام: ہندو مسلم ایک ہیں

مارچ کے ذریعہ یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ہندو اور مسلمان کبھی الگ نہیں ہو سکتے۔ یہ دونوں طبقے قوم، انسانیت، وراثت، قومی پرچم، شہریت اور قانون کے ذریعہ جُڑے ہوئے ہیں۔ تاریخ اور موجودہ حالات چاہے جیسے بھی رہے ہوں، دونوں برادریاں ہمیشہ ساتھ کھڑی رہی ہیں اور رہیں گی۔ یہ مارچ اس ناقابل شکست اتحاد کی علامت تھا جس نے دنیا کو بھائی چارے اور مشترکہ ذمہ داری کا پیغام دیا۔

بھارت کی یکجہتی اور سالمیت کا شاندار مظاہرہ

یہ مارچ صرف مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت اور دنیا تک ایک مضبوط پیغام لے کر گیا۔ پہلگام کی حسین وادیوں سے اٹھنے والی صداؤں نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی ماضی کی بات ہے، مستقبل امن، ترقی اور ہم آہنگی کا ہے۔ مارچ کے دوران ’ہر گھر ترنگا، ہر دل ہندوستان‘ کے نعرے پورے ماحول کو حب الوطنی سے سرشار کرتے رہے۔

فوجیوں کو راکھی باندھ کر بھائی چارے کا پیغام

مارچ کے بعد MRM کارکنان نے لاتھ پورہ کے 185 سی آر پی ایف کیمپ کا دورہ کیا، جو کمانڈو آفس کے قریب واقع ہے۔ وہاں خواتین کارکنان اور بچیوں نے جوانوں کو رکھی باندھی اور ٹیکہ لگایا۔ سپاہیوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ یہ لمحہ ایسا تھا جیسے انہوں نے اپنے ہی گھر والوں کے ساتھ رکشا بندھن منایا ہو۔ یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ عوام اور افواج کے درمیان گہرے خاندانی اور جذباتی رشتے کی علامت تھی۔

کشمیر بھارت کا تاج ہے:اندریش کمار

RSS کی قومی ایگزیکٹیو کے سینئر رکن اندریش کمار نے مارچ کے دوران کہا ’’کشمیر بھارت کا تاج ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی جڑیں کمزور ہو چکی ہیں۔ آج کا مارچ یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر (POK) بھی بھارت کا حصہ ہے اور ایک دن ترنگے کے سائے میں واپس آئے گا۔ ان کے الفاظ نے وادی کے عوام اور نوجوانوں میں نیا جوش بھردیا۔

کشمیر کی روح، بھارت کی دھڑکن:محمد افضل

MRM کے نیشنل کوآرڈینیٹر محمد افضل نے کہا کہ مارچ کا مقصد کشمیر کی روح کو بھارت کی دھڑکن کے ساتھ جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’آج کشمیر کے عوام اور MRM کے کارکن یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بھارت کی روح یہاں بھی اتنی ہی زندہ ہے جتنی دہلی، ممبئی یا چنئی میں۔ ہمارا مقصد ہے کہ ہر گھر میں ترنگا لہرائے اور ہر دل بھارت کے لیے دھڑکے۔‘‘

ہندو مسلم مل کر وطن کی حفاظت کر رہے ہیں:ابوبکرنقوی

MRM رہنما ابو بکر نقوی نے کہا کہ یہ پہل اس بات کی مثال ہے کہ ہندو اور مسلمان مل کر بھارت کی یکجہتی اور سالمیت کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ مارچ دنیا بھر کے ان طاقتوں کے لیے وارننگ ہے جو بھارت کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی مسلمان اور ہندو ایک ساتھ ہیں اور اکھنڈ بھارت کی حفاظت کر رہے ہیں۔‘‘

کشمیر، ثقافتی وراثت اور قوم کی روح: پروفیسرشاہد اختر

پروفیسر شاہد اختر نے کہا: ’’کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ بھارت کی روح اور ثقافتی وراثت ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سنتوں، صوفیوں اور رشیوں نے بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام دیا۔ دہشت گردی کشمیر کی پہچان نہیں، امن اور محبت اس کی اصل روایت ہے۔‘‘

ایک وطن، ایک شہریت، ایک پرچم: ڈاکٹرشالنی علی

MRM کی نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شالنی علی نے کہا: ’’ہمارا وطن ایک ہے، ہمارا پرچم ایک ہے اور ہماری شہریت ایک ہے۔ ہم ہمیشہ بھارتی تھے، ہیں اور رہیں گے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر بھی ہمارا ہے اور ایک دن بھارتی ترنگے کے سائے میں واپس آئے گا۔‘‘

اسلام کا اصل پیغام امن و بھائی چارہ: قاری ابرار جمال

ممتاز عالم دین قاری ابرار جمال نے کہا: ’’اسلام کا اصل پیغام امن اور بھائی چارہ ہے اور MRM نے اس مارچ کے ذریعے دنیا کو یہی بتایا۔ سپاہیوں کو راکھی باندھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی مسلمان اس سرزمین کو اپنی ماں سمجھتے ہیں۔ جب مسلمان بہنیں رکھی باندھتی ہیں تو یہ بھارت کی حفاظت کے عہد کی علامت ہوتا ہے۔‘‘

مقامی شرکاء کی شمولیت

مارچ میں کارکنان اور مقامی افراد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جن میں ریشما حسین، ایس کے مدین، اسلام عباس، محمد فاروق، میر نذیر، شیراز قریشی، ڈاکٹر سلیم راج، شائستہ خان، ٹھاکر راجہ رئیس، حافظ صابرین، محمد عمران، فیض خان اور دیگر شامل تھے۔ سب کا ایک ہی پیغام تھا: کشمیر کی اصل پہچان دہشت گردی نہیں بلکہ امن، ہم آہنگی اور ترقی ہے۔

ماضی سے حال تک: بدلتا ہوا کشمیر

کشمیر طویل عرصے تک دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا شکار رہا۔ لیکن آج حالات بدل رہے ہیں۔ پیغام واضح ہے کہ کشمیر کی اصل شناخت تشدد نہیں بلکہ بھائی چارہ اور انسانیت ہے۔ مارچ نے اس وراثت کو دوبارہ اجاگر کیا جو آزادی کی جدوجہد کے دوران قائم ہوئی تھی۔

عالمی امن کا پیغام

پہلگام ترنگا اور ہم آہنگی مارچ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ بھارت کی روح کا اظہار تھا۔ لاتھ پورہ کے 185 سی آر پی ایف کیمپ میں جوانوں کو راکھی باندھنے کے بعد یہ پیغام مزید نکھر کر سامنے آیا ہے کہ ’’تنوع میں اتحاد‘‘ بھارت کی اصل طاقت ہے۔ کشمیر سے اٹھی یہ آواز’’ایک وطن، ایک پرچم‘‘ آنے والے برسوں میں دنیا کے لیے امن اور بھائی چارے کا پیغام بنے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

1 hour ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago