قومی

Asaduddin Owaisi’s speech: الہ آبادہائی کورٹ کے حکم پراویسی برہم،کہا،حجاب پرفیصلہ مسلمانوں کی مذہبی روایت میں مداخلت

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حجاب سے متعلق حکم پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حجاب کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یہ حکم اسلام پر براہ راست حملہ اور مسلمانوں کی مذہبی روایات میں مداخلت ہے، جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں فیصلے کے لیے محفوظ ہے۔ عید میلاد النبیؐ کے موقع پر دارالسلام میں ’جلسہ رحمت للعالمین‘ سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) پر بھی شدید حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان لوگوں نے تاریخی طور پر آئین کے بجائے ’منوسمرتی‘ کو ترجیح دی ہے۔

اویسی کا دعویٰ، آر ایس ایس نے آئین کی مخالفت کی تھی

آئین اور منوسمرتی کے حوالے سے اویسی نے کہا کہ ملک نے 26 نومبر 1949 کو آئین کو اپنایا تھا، لیکن اس کے چار دن بعد 30 نومبر کو آر ایس ایس کے مکھ پتر میں آئین کے خلاف اعتراض شائع کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس میں کہا گیا تھا کہ یہ آئین نہیں ہے اور اس کی جگہ منوسمرتی ہونی چاہیے تھی۔ اویسی نے ہندو قوم پرست مفکر وی ڈی ساورکر پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ساورکر منوسمرتی کے حامی تھے اور جب وہ انڈمان کی سیلولر جیل میں تھے تو انہوں نے انگریزوں کو خطوط لکھ کر رہائی کی درخواست کی تھی۔ اویسی نے اس کے برعکس علامہ فضل حق خیرآبادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی جیل میں تھے اور انہوں نے کئی طرح کی تکلیفیں برداشت کیں، لیکن انگریزوں کو کبھی ایسا خط نہیں لکھا۔

’سیلولر جیل کا پہلا قیدی حیدرآباد کا مولوی تھا‘

اپنی تقریر میں اویسی نے دعویٰ کیا کہ انڈمان بھیجے جانے والے پہلے قیدی حیدرآباد کے ایک مولوی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیلولر جیل کا پہلا قیدی کوئی عام سیاسی شخصیت یا کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھنے والا شخص نہیں تھا بلکہ حیدرآباد کے مولوی علاؤ الدین تھے، جو مکہ مسجد کے امام تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی قربانیوں کو بھی یاد رکھا جانا چاہیے اور تاریخ کو کسی ایک طبقے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ وہیں جنوبی ریاستوں میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن لوگوں کے نام ’بے ضابطگیوں‘ کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، انہیں خوفزدہ یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی کو نوٹس ملتا ہے تو وہ گھبرائے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی کے کارکن اس پورے عمل میں لوگوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

حیدرآباد میں’اینٹی مرڈر اسکواڈ‘ بنانے کا مطالبہ

اویسی نے تلنگانہ، خصوصاً حیدرآباد میں منشیات کی لت کو بھی سنگین تشویش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی نوجوان نشے کی لت کا شکار ہوکر اپنی زندگی اور مستقبل برباد کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ اگر وہ نشے کی لت سے پریشان ہیں تو مدد لینے میں شرم محسوس نہ کریں۔ حیدرآباد میں مسلسل ہونے والے قتل کے واقعات پر اویسی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ قتل کے واقعات کو روکنے اور ان کی تحقیقات کے لیے شہر میں ایک مخصوص ’اینٹی مرڈر اسکواڈ‘ تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قتل سے متعلق مقدمات کی سماعت ایک سال کے اندر مکمل ہونی چاہیے تاکہ متاثرین کو جلد انصاف مل سکے۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے قتل کے مقدمات کی تیز سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے پر غور کرنے کی درخواست کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق وہ اس سلسلے میں تلنگانہ حکومت کو پہلے ہی ایک میمورنڈم دے چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago