قومی

Our oceans are fighting against climate change: خطرے میں زمین کاپھیپھڑا ! ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ختم ہو رہے ہیں سمندری گھاس کے میدان ، ہر 30 منٹ میں فٹبال گراؤنڈ جیسا رقبہ تباہ

امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ ہم سمندر سے بندھے ہوئے ہیں اور جب ہم سمندر کی طرف لوٹتے ہیں، چاہے وہ کشتی چلانے کے لیے ہو یا صرف اسے دیکھنے کے لیے، تو دراصل ہم وہیں واپس جا رہے ہوتے ہیں جہاں سے ہم آئے تھے۔ کینیڈی کا یہ بیان بتاتا ہے کہ انسانوں کا سمندر سے رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے۔ اس زمین پر موجود مکمل نظام زندگی دراصل سمندر کی گہرائیوں سے ہی نکلی ہوئی ہے اور یہی سمندر زمین کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ لیکن اب یہی سمندر مر رہا ہے۔ اس کی گھاس کے میدان ختم ہو رہے ہیں، ماحولیات تباہ ہو رہی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی کو مانا جا رہا ہے۔

زمین پر موجود پانچ بڑے سمندر اس کے 71 فیصد حصے کو ڈھکے ہوئے ہیں جو ہماری زندگی کے لیے بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زمین پر آکسیجن کی سطح کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی انہی سمندروں پر ہے۔ ہماری سانس لینے کے لیے ضروری آکسیجن کا تقریباً 80 فیصد حصہ سمندر سے ہی آتا ہے، اسی لیے انہیں زمین کا پھیپھڑا کہا جاتا ہے۔ سمندر کے اندر موجود سمندری گھاس کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرکے زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو متوازن رکھتی ہے، لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے اب یہ تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں۔

ہر 30 منٹ میں تباہ ہو رہی ہے سمندری گھاس

اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام کے مطابق دنیا بھر میں ہر 30 منٹ میں فٹبال کے ایک میدان کے برابر سمندری گھاس ختم ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر یہ سالانہ تقریباً 7 فیصد کی شرح سے کم ہو رہی ہے۔ اگر برطانیہ کی بات کی جائے تو گزشتہ 100 برسوں میں برطانیہ اپنی کل سمندری گھاس کا 90 فیصد حصہ کھو چکا ہے۔

کیا ہے وجہ؟

دنیا بھر میں سمندری گھاس کی 70 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں، جو تقریباً 3 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سمندری گھاس کی پتے اور جڑیں کاربن سے بنی ہوتی ہیں، اسی لیے یہ جنگلات کے مقابلے میں 35 گنا زیادہ تیزی سے کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتی ہیں۔

سرخ فہرست میں شامل

لیکن ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سمندر میں موجود سمندری گھاس کے میدان تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ رہی سہی کسر بے تحاشہ اور غیر منظم ماہی گیری نے پوری کر دی ہے۔ یورپی یونین نے سمندری گھاس کو بچانے کے لیے خاص اقدامات کیے ہوئے اسے سرخ فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس فہرست میں بتایا گیا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری اور مضبوط کارروائی نہیں کی گئی تو 2050 تک کچھ اقسام کی سمندری گھاس ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

11 minutes ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

30 minutes ago

20th Rozgar Mela: روزگار میلے میں وزیر اعظم نریندر مودی 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو دیں گے تقرری نامے

روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…

1 hour ago

Provident Fund Organisation: ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد بڑھنے سے ملازمین پر کیا اثر پڑے گا،کیوں ہو رہی ہے تنقید؟

ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…

1 hour ago

PM Modi Shares Sanskrit Subhashit: وزیر اعظم نریندر مودی نے خصوصی سنسکرت سبھاشیت شیئر کیا، خود انحصاری اور خدمت کا دیا پیغام

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…

1 hour ago