اترپردیش کے ضلع سنبھل میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے سے متعلق معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔سا تھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔پیر کے روز اتل شری دھرن اور جس سدھارتھن نندن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ضلع انتظامیہ کے حکم پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ ہر حالت میں قانون و نظم برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
نماز ادا کرنے آنے والے تمام افراد کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے
عدالت نے ہدایت دی کہ نماز ادا کرنے آنے والے تمام افراد کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر کوئی نماز میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس سے پہلے سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے سکیورٹی کے معاملے پر سنبھل کے ڈی ایم اور ایس پی کو سخت سرزنش بھی کی تھی۔ ادھر، اس معاملہ میں مقامی ہندو باشندوں نے اجتماعی نماز پڑھنے کی مخالفت کرتے ہوئے انتظامیہ کو انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کی بات نہیں سنی گئی تو وہ گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
اگر آپ سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں: الہ آباد ہائی کورٹ
عدالت نے کہا تھا کہ اگر آپ سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں یا اپنا تبادلہ کرالیں۔ عدالت نے واضح طور پر قانون و نظم برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس بنیاد پر نمازیوں کی تعداد محدود کرنا درست نہیں ۔
’کیا مندر میں بھی اس طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں؟‘
جسٹس اتل شری دھرن نے سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ کیا مندر میں بھی اس طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مہاکمبھ میلہ میں بھگدڑ جیسا واقعہ پیش آیا تھا تو کیا وہاں ہر تین اسکوائر فٹ پر صرف دو افراد کی پابندی لگائی گئی تھی؟ عدالت نے مزید پوچھا کہ اگر کوئی ہندو اپنے گھر میں بھجن کر رہا ہو تو کیا اسے اس طرح عبادت کرنے سے روکا جا سکتا ہے؟ عدالت کا کہنا تھا کہ عبادت پر اس طرح کی پابندیاں لگانا مناسب نہیں اور قانون و انتظام برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
کیا تھا معاملہ؟
واضح رہے کہ سنبھل ضلع انتظامیہ نے چندوسی تحصیل کے حیات نگر تھانہ علاقے میں واقع دھنیٹا سوتی پورہ گاؤں کی غوثیہ مسجد میں صرف 20 افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔ درخواست گزار مناظر خان کے مطابق گزشتہ سال فروری میں پولیس اہلکار آئے اور کہا کہ مسجد میں صرف 20 افراد ہی نماز ادا کر سکتے ہیں اور ایک وقت میں صرف 5 سے 6 افراد ہی نماز پڑھیں گے۔ اس کے بعد مناظر خان نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی اور کہا کہ انہیں گاٹا نمبر 291 پر بنی مسجد میں رمضان کے دوران بھی نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اس جگہ پر ایک مسجد موجود ہے اور وہاں اجتماعی نماز ادا ہوتی ہے۔
درخواست گزار مناظر خان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال سے انہیں مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا تھا اور اب ہائی کورٹ کے حکم کے بعد مسجد میں تمام لوگوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…
’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…