نئی دہلی: پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران مسلسل تعطل، ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید لفظی جنگ کے پس منظر میں اپوزیشن جماعتوں کی ایک اہم میٹنگ جمعرات کی صبح طلب کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اجلاس صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کے کمرے میں منعقد ہوگا، جس میں پارلیمانی اجلاس کے لیے مشترکہ حکمت عملی، آئندہ کے لائحہ عمل اور ایوان میں اپوزیشن کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب لوک سبھا میں راہل گاندھی کے چین کے ساتھ 2020 کے سرحدی تنازع اور سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ یادداشت کے حوالہ پر شدید ہنگامہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی کرنی پڑی اور آخرکار بدھ کے روز لوک سبھا کی کارروائی 5 فروری تک کے لیے معطل کر دی گئی۔
راہل گاندھی کا وزیراعظم پر سخت حملہ
لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کے روز وزیراعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر سچ کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں اور اسی لیے پارلیمنٹ آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’’جیسا کہ میں نے کہا تھا، وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ نہیں آئیں گے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں اور قومی سلامتی کے حوالے سے سچ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں کہا: ’’مجھے نہیں لگتا کہ وزیر اعظم میں اتنی ہمت ہے کہ وہ آج لوک سبھا میں آئیں، کیونکہ اگر وہ آئے تو میں یہ کتاب (جنرل نرونے کی یادداشت) خود جا کر انہیں دوں گا، تاکہ وہ پڑھ سکیں اور انہیں اپنی حقیقت کا پتہ چلے، اور ملک کو بھی سچ معلوم ہو۔‘‘
جنرل نرونے کی یادداشت اور تنازع کی جڑ
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی یادداشت میں مشرقی لداخ میں 2020 کے چین-بھارت سرحدی تنازع کے دوران سیاسی قیادت کے کردار سے متعلق نہایت سنجیدہ انکشافات موجود ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا: ’’یہ کتاب نہ تو کسی اپوزیشن لیڈر نے لکھی ہے اور نہ کسی غیر ملکی مصنف نے، بلکہ یہ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل نرونے کی تحریر ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کابینہ کے وزرا کے مطابق یہ کتاب وجود ہی نہیں رکھتی۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کتاب میں درج ہے کہ جب چینی فوج نے بھارتی سرحد میں دراندازی کی، تو ایسے نازک وقت میں آرمی چیف کو انتظار کروایا گیا اور جب فیصلہ لینے کا وقت آیا تو وزیراعظم نے کہا: ’جو آپ کو مناسب لگے، وہی کریں‘۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سنگین قومی سلامتی کے بحران میں سیاسی قیادت نے اپنی ذمہ داری سے ہاتھ اٹھا لیا اور فوج کو تنہا چھوڑ دیا۔
لوک سبھا میں شدید ہنگامہ اور کارروائی کی معطلی
راہل گاندھی کی جانب سے جنرل نرونے کی غیر مطبوعہ یادداشت کا حوالہ دینے پر حکمراں جماعت بی جے پی کے اراکین نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ ایوان کے قواعد کے تحت کسی غیر شائع شدہ کتاب یا غیر مصدقہ مضمون کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے راہل گاندھی کو ہدایت دی کہ وہ غیر مطبوعہ کتاب اور اس سے متعلق مضمون کا ذکر نہ کریں اور قواعد کے مطابق اپنی تقریر جاری رکھیں۔ تاہم مسلسل شور شرابے اور نعرے بازی کے سبب ایوان کی کارروائی پہلے دوپہر 3 بجے، پھر 4 بجے اور آخرکار 5 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی پر مسلح افواج کے حوصلے پست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کے ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی اسپیکر سے اپیل کی کہ ایسے حوالوں کی اجازت نہ دی جائے جو قومی سلامتی کے لیے حساس ہو سکتے ہیں۔
اپوزیشن اجلاس کی اہمیت
سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا مجوزہ اجلاس نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو منظم انداز میں آگے بڑھانے، حکومت کو گھیرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بنانے اور ایوان میں متحد موقف اپنانے پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں راہل گاندھی کے معاملے، چین سرحدی تنازع، اراکین کی معطلی، ایوان کی بار بار معطلی اور حکومت کے رویے جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔ لوک سبھا میں جاری کشیدگی اور اپوزیشن کے سخت تیور نے پارلیمانی سیاست میں درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کی سیاست مزید گہری ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اجلاس پارلیمانی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب قومی سلامتی، چین تنازع اور پارلیمانی قواعد جیسے حساس موضوعات پر شدید اختلافات سامنے آ چکے ہیں، اپوزیشن کی مشترکہ حکمتِ عملی آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…