نئی دہلی: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں حالیہ دنوں پیدا ہونے والی اندرونی کشیدگی، اختلافات اور بعض لیڈروں کے استعفوں کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو اپنے سفر میں ایسے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں ہی کسی جماعت کے حقیقی اور مخلص کارکنوں کی پہچان ہوتی ہے، جبکہ ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے افراد اکثر ایسے مواقع پر پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور لیڈروں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں بعض افراد اپنے ذاتی مفادات کو پارٹی مفادات پر فوقیت دیتے ہیں۔ ایسے لوگ حالات سازگار ہونے تک جماعت کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی مشکلات پیدا ہوتی ہیں، وہ راستہ الگ کر لیتے ہیں۔ طارق انور کے مطابق ترنمول کانگریس میں بھی اگر کچھ لوگ محض مفاد کی بنیاد پر موجود ہیں تو ان کا پارٹی چھوڑ دینا کوئی حیران کن بات نہیں ہوگی۔ ٹی ایم سی کے رہنما محمد اجمل صدیقی کے حالیہ استعفے اور ان کے اس بیان پر کہ ’’ابھیشیک بنرجی کے ساتھ کام کرنا مشکل ہے‘‘، طارق انور نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان الزامات میں حقیقت بھی ہو تو ایسے اعتراضات اس وقت سامنے آنے چاہییں تھے جب پارٹی اقتدار میں تھی۔ ان کے مطابق انتخابی شکست یا سیاسی مشکلات کے بعد اس طرح کے بیانات دینا موقع پرستی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب جماعت اقتدار میں ہو، تنظیم مضبوط ہو اور سیاسی فائدے حاصل ہو رہے ہوں، تب خاموش رہنا اور بعد میں شکایات سامنے لانا سیاسی سنجیدگی کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی لیڈر کو تنظیمی معاملات یا قیادت سے متعلق اعتراضات ہوں تو انہیں بروقت اٹھانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ٹی ایم سی کے اقلیتی سیل کے ریاستی سیکریٹری محمد اجمل صدیقی نے ہفتے کے روز پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو لکھے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ انہوں نے پارٹی کے لیے اپنی توانائیاں اور وقت وقف کیا تھا۔ انہوں نے ممتا بنرجی کی قیادت میں کام کرنے کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔
دریں اثنا طارق انور نے تمل ناڈو کی سیاست پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے دراوڑ منیترا کڑگم (ڈی ایم کے) کو مشورہ دیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو مضبوط ہونے سے روکنا اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے اثر و رسوخ کو محدود نہ کیا گیا تو اس کے سیاسی نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو باہمی اختلافات کے باوجود وسیع تر سیاسی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…