نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرحدی سلامتی اور داخلی تحفظ کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت ایک اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ و وزیرِ تعاون امت شاہ 9 جون کو نئی دہلی میں جدید ’’لینڈ پورٹ مینجمنٹ سسٹم‘‘ (ایل پی ایم ایس) کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ حکومت کے مطابق یہ نظام سرحدی زمینی بندرگاہوں کے انتظام، تجارتی سرگرمیوں اور مسافروں کی نقل و حرکت کو مزید مؤثر، شفاف اور محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ سرکاری بیان کے مطابق ایل پی ایم ایس ایک جدید اور مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جسے ملک کی زمینی سرحدی بندرگاہوں پر مختلف کارروائیوں کو ایک ہی نظام کے تحت منظم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم لاجسٹکس اور ضابطہ جاتی معلومات کے محفوظ اور حقیقی وقت میں تبادلے کو ممکن بنائے گا، جس کے نتیجے میں زمینی بندرگاہوں کا نظام ہوائی اڈوں اور سمندری بندرگاہوں پر پہلے سے موجود جدید ڈیجیٹل نظاموں کے مساوی ہو جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’’اسمارٹ بارڈر مینجمنٹ‘‘ کے تصور کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سرحد پار تجارت اور مسافروں کی آمد و رفت کو زیادہ تیز، محفوظ اور شفاف بنانا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام سے مختلف سرکاری اداروں اور نجی آپریٹروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہوگا، جس سے انتظامی رکاوٹیں کم ہوں گی اور مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ افتتاحی تقریب کے دوران امت شاہ میگھالیہ کے داوکی اور تریپورہ کے شریمنت پور لینڈ پورٹس پر تعمیر کی گئی نئی اسٹیک ہولڈر رہائشی سہولیات کا بھی افتتاح کریں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بہتر بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایل پی ایم ایس کارگو اور مسافروں کی پروسیسنگ کے لیے مکمل ڈیجیٹل ورک فلو فراہم کرے گا۔ اس میں سلاٹ بکنگ، آن لائن ادائیگی، ٹریکنگ سسٹم اور سنگل ونڈو کلیئرنس جیسی سہولیات شامل ہوں گی۔ اس کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں اور سرحدی کارروائیوں میں درپیش غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جا سکے گا اور تمام مراحل زیادہ منظم انداز میں مکمل ہوں گے۔ یہ نظام متعدد قومی پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی مربوط ہوگا، جن میں انڈین کسٹمز الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج گیٹ وے، انشورنس اور موٹر وہیکل سے متعلق ڈیجیٹل نظام شامل ہیں۔ اس انضمام کے ذریعے سرحدی انتظام کو زیادہ باہم مربوط، شفاف اور مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت کے مطابق ایل پی ایم ایس کا آغاز ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کے مطابق ملک کی اقتصادی ترقی، تجارتی رابطوں اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ نظام مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لینڈ پورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایل پی اے آئی)، جو وزارتِ داخلہ کے محکمہ سرحدی انتظام کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے، ملک کی بین الاقوامی زمینی بندرگاہوں کی تعمیر، ترقی اور انتظام کی ذمہ دار ہے۔ اس وقت اتھارٹی پاکستان، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور میانمار سے متصل سرحدوں پر واقع 15 لینڈ پورٹس کا انتظام سنبھال رہی ہے، جن کے ذریعے سرحد پار تجارت، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…