بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔ اس بار 2025 کے انتخابات میں بھی یہی سوال سب کے ذہن میں ہے کہ کیا سیاسی تجزیہ کار ایک بار پھر چکما کھائیں گے یا رزلٹ ان کی ایگزٹ پول کے مطابق ہوگا۔
2000 کا بہار اسمبلی انتخابات
سنہ 2000 میں جب بہار میں اسمبلی انتخابات ہوئے، اُس وقت اوپینین پول کا نظام ابتدائی دور میں تھا۔ اس کے باوجود آؤٹ لک-سی ووٹر، انڈیا ٹوڈے-او آر جی مارگ، اور دی پایونیر جیسی ایجنسیوں نے ایگزٹ پول کی تھیں، جن میں زیادہ تر نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کو سبقت دی تھی۔ رزلٹ بھی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے حق میں رہا، پارٹی نے 124 سیٹیں جیتیں، مگر مکمل اکثریت حاصل نہ کر سکی۔
2005 میں دو انتخابات، دو الگ کہانیاں
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2005 میں بہار میں دو مرتبہ انتخابات ہوئے۔ فروری 2005 کے پہلے مرحلے میں زیادہ تر ایگزٹ پول نے راجد اتحاد کو آگے بتایا، مگر رزلٹ میں راجد کو صرف 75 سیٹیں ملیں، جبکہ این ڈی اے (جے ڈی یو –بی جے پی) کو 92 سیٹیں ملیں۔ کوئی بھی اتحاد اکثریت حاصل نہ کر سکا اور نتیجتاً ریاست میں صدر راج نافذ کیا گیا۔ اسی سال اکتوبر-نومبر 2005 میں دوبارہ الیکشن ہوئے۔ اس بار سیاسی تجزیہ کاروں نے این ڈی اے کو واضح برتری دی تھی اور رزلٹ تقریباً درست نکلا۔ این ڈی اے نے 143 سیٹیں (جے ڈی یو-88، بی جے پی-55) جیت کر حکومت بنائی اور نتیش کمار پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے۔
2010 کا بہار اسمبلی انتخابات
2010 کے انتخابات میں اوپینین پول نے حیرت انگیز درستگی دکھائی۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں نے این ڈی اے کو بڑی برتری دی تھی اور نتیجہ بھی اسی طرح آیا۔ جے ڈی یو نے 115 اور بی جے پی نے 91 سیٹیں جیت کر 206 کی تاریخی اکثریت حاصل کی۔ یہ وہ الیکشن تھا جس نے نتیش کمار کی مقبولیت کو نئی بلندی دی۔
2015 کا بہار اسمبلی انتخابات
2015 کے انتخاب میں اوپینین پول میں شدید تضاد تھا۔ کچھ پولز نے مہاگٹھ بندھن (آر جے ڈی–جے ڈی یو–کانگریس) کو سبقت دی، تو کچھ نے این ڈی اے کو۔ رزلٹ آیا تو مہاگٹھ بندھن نے 178 سیٹیں جیت کر شاندار جیت حاصل کی۔ ان میں راجد کو 80، جے ڈی یو کو 71 اور کانگریس کو 27 سیٹیں ملیں۔ یہ الیکشن وہ تھا جس میں وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت بھی بہار کے ووٹ بینک کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکی۔
2020 میں کانٹے کی ٹکر
2020 میں بھی اوپینین پول کے درمیان شدید اختلاف تھا۔ انڈیا ٹوڈے-ایکسس مائی انڈیا نے مہاگٹھ بندھن کو 139–161 نشستوں کے ساتھ آگے بتایا، جبکہ نیوز18–چانکیہ اور ریپبلک–جن کی بات نے این ڈی اے کو 180+ سیٹیں دی تھیں۔ حقیقی رزلٹ میں این ڈی اے کو 125 اور مہاگٹھ بندھن کو 110 نشستیں ملیں یعنی کانٹے کی ٹکر رہا۔ ان تمام میں اے بی پی نیوز–سی ووٹر کا اندازہ سب سے قریب نکلا، جس نے این ڈی اے 133–143 اور مہاگٹھ بندھن 88–98 کی پیشگوئی کی تھی۔
2025 میں این ڈی اے کو برتری
اب جبکہ 2025 کے انتخابات اپنے آخری مرحلے میں ہیں، بیشتر اوپینین پول ایک بار پھر این ڈی اے کو برتری دے رہے ہیں۔ تاہم، بہار کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے ووٹر اکثر سب کی پیشگوئیوں کو بدل دیتے ہیں۔ اصلی تصویر 14 نومبر کو نتائج آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی، جب یہ طے ہوگا کہ بہار میں اقتدار کا سنگھاسن این ڈی اے کے پاس رہے گا یا مہاگٹھ بندھن کے ہاتھ آئے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…
بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…