قومی

Delhi Blast Al-Falah University On Agencies Radar : لال قلعہ دھماکہ کیس کی تفتیش فریدآباد پہنچی، الٰفلاح یونیورسٹی ایجنسیوں کے رڈار پر، پروفیسر و طلبہ سے پوچھ گچھ جاری، چھ گرفتار

نئی دہلی: دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیر 10 نومبر کی شام ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب اس واقعے کی تفتیش ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 24 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کو انسداد غیر قانونی سرگرمیاں (یو اے پی اے) کی دفعات کے تحت درج کیا ہے اور اس کی گہرائی سے تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب اس معاملے کی ڈور فریدآباد کے دھوج علاقے تک لے گئی ہیں، جہاں الٰفلاح یونیورسٹی پولیس کے رڈار پر ہے۔ دہلی پولیس اور ہریانہ پولیس کی مشترکہ ٹیم نے منگل کو یونیورسٹی میں چھاپہ مارا۔ ذرائع کے مطابق، یونیورسٹی سے وابستہ چند پروفیسر اور طلبہ پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا دہلی دھماکہ کیس میں ہاتھ ہو سکتا ہے۔

پولیس نے اب تک یونیورسٹی کے تقریباً 52 افراد سے پوچھ گچھ کی ہے، جن میں سے 6 افراد کو حراست میں لے کر ان سے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گرفتار افراد میں زیادہ تر جونیئر ڈاکٹر شامل ہیں، جبکہ تین سینئر پروفیسر ڈاکٹر شاہین، ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر مزمل سے بھی تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یونیورسٹی کے تقریباً 40 فیصد ڈاکٹر و اساتذہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ الٰفلاح  یونیورسٹی فریدآباد کے دھوج علاقے میں اراولی پہاڑیوں کے دامن میں 70 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا انتظام الٰفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے تحت چلتا ہے، جو تین دیگر ادارے بھی چلاتا ہے۔ ”الٰفلاح اسکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی“، ”براون ہل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی“ اور ”الٰفلاح اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ“۔

یہ یونیورسٹی ہریانہ پرائیویٹ یونیورسٹی ایکٹ 2006 کے تحت قائم ہوئی تھی، جس میں 2014 میں ترمیم کی گئی۔ بعد ازاں 2015 میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے اسے قانون 1956 کی شق 2(ایف) اور 12(بی) کے تحت باضابطہ منظوری دی۔ یونیورسٹی میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایجوکیشن اور مینجمنٹ سمیت کئی شعبوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں الٰفلاح اسکول آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ سینٹر اور الٰفلاح اسپتال بھی کیمپس کے اندر ہی موجود ہیں، جہاں غریب مریضوں کو مفت طبی مشورے اور کم لاگت پر تشخیصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اسپتال کو 2019 میں این ایم سی سے ایم بی بی ایس کورس شروع کرنے کی اجازت ملی تھی۔

یونیورسٹی میں بی ٹیک، ایم بی بی ایس، بی اے، بی ایس سی، بی کام، بی سی اے، بی ایڈ، ایم ایڈ، ایم ٹیک، ایم ایس سی، ایم بی اے، ایم سی اے اور پی ایچ ڈی کے کورسز کرائے جاتے ہیں۔ فی الحال دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس مشترکہ طور پر اس دھماکے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہیں۔ الٰفلاح یونیورسٹی کے فیکلٹی اور طلبہ کے ممکنہ روابط نے تفتیش کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں ممکن ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Home Secretary Unconditional Apology: کیا مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی؟ جانیے کیا ہے قانونی ضابطہ

توہینِ عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے میں معافی کے ذکر سے متعلق…

21 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

1 hour ago

Jio Platforms IPO: جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او 21 اکتوبر کو کھلے گا، فی شیئر قیمت 1,065 سے 1,119 روپے مقرر

ریلائنس انڈسٹریز کی ڈیجیٹل اور ٹیلی کام کمپنی کا آئی پی او 23 اکتوبر تک…

1 hour ago