آپریشن سندور کے تحت ہندوستان نے جب 7 سے 10 مئی کے درمیان پاکستان میں داخل ہو کر ڈرون، میزائل اور بموں سے حملہ کیا، جس سے پاکستان کے کمزور فضائی دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ چین کے بنائے گئے ہتھیاروں کی ناکامی بھی پوری دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔
آپریشن سندور میں پاکستان ہوا چاروں خانے چِت
آپریشن سندور نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے پاس موجود چینی ہتھیار اور لڑاکا طیارے سنگین بحران کی گھڑی میں زیادہ مدد نہیں کر سکتے۔ واضح رہے کہ پاکستان اپنی کل دفاعی درآمدات کا تقریباً 82 فیصد چین سے خریدتا ہے۔ ان میں ریڈار، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، لیکن یہ سب ہندوستان کے حملوں کے سامنے مکمل طور پر بے اثر ثابت ہوئے۔
چین کا بنایا ہوا فضائی دفاعی نظام تباہ
ہندوستانی فوج کے حملے میں لاہور میں چین کے ساختہ ایئر ڈیفنس ریڈار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب میں چونیہ ایئربیس پر تعینات چین کا YLC-8E اینٹی اسٹیلتھ ریڈار مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ چین سے حاصل کیے گئے ڈرونز اور AR-1 لیزر گائیڈڈ میزائلوں کو بھی، جنھیں پاکستان نے ہندوستان پر فائر کیا تھا، ہندوستانی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
وہیں پاکستان نے ہندوستانی میزائلوں اور طیاروں کو روکنے کے لیے چینی ساختہ HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات کیا تھا، لیکن ہندوستان نے آسانی سے ان سسٹمز کو جام کر دیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان کے اندر حملہ کیا۔ ان سسٹمز کی ناکامی کا چین میں بھی چرچا ہوا اور بہت سے چینی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس کے لیے پاکستان کی تربیت کی کمی اور ناقص آپریشنل پلاننگ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
چین کے میزائل ہوئے ناکام
کہا جاتا تھا کہ چین کا PL-15 میزائل امریکہ کے AIM-120D جیسے جدید میزائلوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ہندوستان پر پاکستانی حملے کے دوران یہ اپنے اہداف کو چھو بھی نہیں سکا۔ ہندوستانی حکام نے ہوشیار پور میں زمین پر پڑا PL-15 میزائل کا ایک ٹکڑا برآمد کیا ہے۔ پاکستان نے چینی J-10C اور JF-17 Block-III جیسے لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے تھے، لیکن وہ بھی ہندوستانی حملوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ ان جیٹ طیاروں کے پاس PL-15 میزائل تھے، پھر بھی وہ نہ تو ہندوستانی فوج کے فضائی حملے کو روک سکے اور نہ ہی کوئی موثر جواب دے سکے۔
آپریشن سندور کے حوالے سے پاکستان کا دعویٰ
اس شکست کے درمیان پاکستان نے پروپیگنڈہ پھیلاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے رافیل سمیت کئی ہندوستانی طیارے مار گرائے ہیں، لیکن ان دعوؤں کی تائید میں کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی پاکستان کسی ہندوستانی طیارے کا ملبہ دکھا سکا۔ جب پاکستان چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے بھارت کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا تب بھارت نے اپنی دیسی ٹیکنالوجی اور کچھ مغربی دفاعی آلات کی مدد سے نہ صرف اپنا تحفظ کیا بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
مشہور ماہر دفاع جان اسپینسر نے کہا ’’ہندوستان نے دکھایا ہے کہ اس کے جدید دفاعی نظام میں نہ صرف حملے روکنے کی طاقت ہے بلکہ دشمن کے دفاع کو توڑنے کی بھی طاقت ہے۔ یہ سب ایک مضبوط حکمت عملی اور دفاعی نظام کے درست استعمال کا نتیجہ ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اب سب جانتے ہیں کہ چین کے بنائے ہوئے ہتھیار اور جنگ میں ناکام ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی سیکوریٹی میں سنگین خامیاں ہیں۔ وہیں ہندوستان کی ٹیکنالوجی اور حکمت عملی نے ایک بار پھر خود کو باصلاحیت اور قابل اعتماد ثابت کیا ہے۔
اس کے علاوہ آپریشن سندور نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ جنگ میں ہتھیاروں کا معیار اور ان کا درست استعمال سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اس میدان میں ہندوستان کو واضح فتح ملی ہے۔ یہ آپریشن بھارت کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی اور اس نے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کی ٹیکنالوجی کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش کے مہوبا ضلع میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے کئی خاندانوں کے…
مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے پر ’مودی اسٹوری‘ نامی ایکس ہینڈل…
نیِم کرولی بابا کی زندگی اور ان کی مذہبی تعلیمات پر مبنی فلم ’ہنومان انش‘…
مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی…
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…
اتر پردیش کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کے اوم پرکاش راج بھر کے بیان…