قومی

O P Yadav Used Abusive Language: ‘شوکَت جاہل اور بک** ہے..’, اوپی راج بھر کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، وائرل ہوا ویڈیو دیکھیں

اتر پردیش کی سیاست میں بیانات کے ‘باہوبلی’ مانے جانے والے سُبھاسپا سربراہ اور یوگی حکومت کے کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر اپنے متنازع بیان دیکر سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ امبیڈکر نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راج بھر نے سیاسی بغض و عداوت میں تہذیب و تمدن کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے گالیوں کی بوچھار کر دی۔ جس کو کوئی بھی ذی شعور معاشرہ قبول نہیں کر سکتا۔  اپنی گالیوں میں انہوں نے  اے آئی ایم آئی ایم  اور سماج وادی پارٹی کو نشانے پر لیا۔

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر پر ذاتی حملہ 

راج بھر کا سب سے پہلا اور تیز ترین وار اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی پر ہوا۔ انہوں نے کھلے عام شوکت علی کو ’’ان پڑھ، جاہل اور بکواس‘‘ قرار دیا۔ شوکت علی پر ووٹ بینک کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے راج بھر نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایس پی پر ‘نوکری گھوٹالے’ کا سنسنی خیز الزام 

شوکت علی  کے بعد راج بھر نے اکھلیش یادو کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پچھلی ایس پی حکومت میں نوکریوں میں شدید بدعنوانی کا دعویٰ کیا۔ راج بھر کے مطابق ایس پی دور میں ٹھیکیدار کھلے عام کہتے تھے کہ ’’5 سے 8 لاکھ روپے دو، نوکری مل جائے گی۔‘‘ انہوں نے براہ راست الزام لگایا کہ نوکریوں کی فہرست شیواپال یادو بناتے تھے اور اکھلیش یادو صرف ان پر دستخط کرتے تھے، تبھی لسٹ باہر آتی تھی۔ اس کے برعکس انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ یوگی اور مودی حکومت میں بغیر کسی سفارش کے 9 لاکھ سے زیادہ بچوں کو سرکاری نوکری ملی ہے۔

اکھلیش ناچ دیکھ رہے تھے (OP Rajbhar On Akhilesh Yadav

راج بھر کا سب سے بڑا سیاسی بم قانون و انتظام پر تھا۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کی حکومت کو ’فسادات کی حکومت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں 1000 سے زیادہ فسادات ہوئے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب مظفر نگر فسادات کی آگ میں جل رہا تھا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سیفئی میں بیٹھ کر ناچ دیکھ رہے تھے۔

یوگی حکومت میں قانون کی حکمرانی 

اپنی پریس کانفرنس کے اختتام پر راج بھر نے سینہ ٹھوک کر کہا کہ آج اتر پردیش میں ’قانون کی حکمرانی‘ ہے۔ یوگی حکومت کے دور میں ایک بھی فساد نہیں ہوا۔ راج بھر کے اس بھرپور حملے نے یوپی کی سیاست کا درجہ حرارت یکدم عروج پر پہنچا دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایس پی اور اے آئی ایم آئی ایم اس ’مُہلک وار‘ کا کیا جواب دیتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago