جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اسمبلی میں کافی جذباتی ہوگئے۔
جموں وکشمیرکے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے پر خصوصی اسمبلی سیشن میں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے مہلوکین کوخراج عقیدت پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ہم بندوق کے ذریعہ دہشت گردی کو کنٹرول کرسکتے ہیں، لیکن اس کوختم نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ ختم تب ہوگا جب لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے اورآج لگتا ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔
وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنے خطاب کے دوران اس حملے میں مارے گئے سبھی 26 سیاحوں کے نام لئے۔ انہوں نے کہا کہ شمال سے لے کرجنوب تک اورمشرق سے لے کرمغرب تک، اروناچل سے لے کرگجرات تک، جموں وکشمیرسے کیرلا تک اوربیچ کی تمام ریاستیں پورا ملک اس حملے کی لپیٹ میں آیا ہے۔ جموں وکشمیرمیں یہ پہلا حملہ نہیں ہے، لیکن درمیان کا ایک ایسا وقت آیا تھا کہ یہ حملے رک گئے تھے۔ اسی کے بعد پہلگام کا یہ حملہ 21 سال کے بعد اتنا بڑا حملہ ہوا ہے۔
جموں وکشمیر کی سیکورٹی کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے: عمرعبداللہ
عمرعبداللہ نے کہا کہ ہمیں لگ رہا تھا کہ جو پہلے دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں، یہ ہماری تاریخ ہے، لیکن پہلگام میں جودہشت گردانہ حملہ ہوا، بدقسمتی سے اس نے وہ حالات پیدا کردیئے ہیں، جب ہمیں لگ رہا ہے کہ پتہ نہیں دوسرا حملہ کہاں ہوگا۔ 26 لوگوں کوہم نے جب خراج عقیدت پیش کیا تومیرے پاس الفاظ نہیں ہے کہ کیا کہوں، ان کے گھروالوں سے معافی مانگوں، یہ جانتے ہوئے کہ جموں وکشمیرکی سیکورٹی جموں وکشمیرکے لوگوں کے ذریعہ منتخب کی گئی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن آج میں یہاں سے جموں وکشمیرکی مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں کے سیاحتی وزیرہونے کی ذمہ داری کے ناطے ہم نے ان لوگوں کودعوت دی تھی کہ آپ جموں وکشمیرآئیں، لیکن واپس نہیں بھیج پایا۔ میں ان لوگوں سے معافی تک نہیں مانگ پایا۔ میں ان لوگوں کوکیا کہوں، جنہوں نے اپنے والد کوخون میں لپٹا ہوا دیکھا۔ اس نے نیوی افسرکی بیوہ کوجس کی شادی ہوئے ہی چند دن ہوئے تھے۔
حملے نے ہمیں اندرسے کھوکھلا کردیا: وزیراعلیٰ
لوگوں کا درد بیان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ کچھ لوگ آئے، جنہوں نے میرے سے پوچھا کہ ہمارا قصورکیا تھا، ہم یہاں پرچھٹی منانے آئے تھے، لیکن اب زندگی بھرہمیں اس پہلگام حملے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جن لوگوں نے یہ کیا، کہنے کویہ کہتے ہیں کہ ہماری بھلائی کے لئے کیا، کیا ہم ن نے ان کوکہا تھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں، کیا یہ ہماری اجازت سے ہوا، ہم میں سے کوئی بھی اس دہشت گردانہ حملے کے ساتھ نہیں ہے۔ اس حملے نے ہمیں اندرسے کھوکھلا کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہت مشکل ہے ان حالات میں روشنی تلاش کرنا، پہلی بار26 سال میں میں نے جموں وکشمیر میں اس طریقے سے لوگوں کو باہرآتے ہوئے دیکھا ہے اورلوگ باہردہشت گردی کے خلاف باہرآئے۔ شاید ایسا کوئی گاؤں ہو، جہاں پراس دہشت گردانہ حملے کی مذمت نہ ہوئی ہو۔ دہشت گردی کا خاتمہ تب ہوگا جب لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے۔ اس حملے کے بعد جامع مسجد میں دومنٹ کی خاموشی اختیارکی گئی اورمسجد میں خاموشی کا مطلب کیا ہے، یہ ہم سمجھتے ہیں۔
ریاست کے درجہ سے متعلق عمرعبداللہ نے کہا؟
جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کشمیرکے باشندہ عادل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عادل نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیرسیاحوں کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دے دی۔ جموں وکشمیرکی سیکورٹی منتخب حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن میں یہ موقع استعمال کر کے ریاست کے درجہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید کہا، مکمل ریاست کے درجہ کی بات ہم کریں گے، لیکن ابھی موقع نہیں ہے۔ ہم اس دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں اوران اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں، جنہوں نے اپنوں کوکھویا ہے۔
مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی…
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…
اتر پردیش کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کے اوم پرکاش راج بھر کے بیان…
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ…
22 ستمبر سے نئی دہلی میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے سربراہان کی تیسری قومی…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر…