آج 28 اپریل 2025 کو، اقوام متحدہ کی سب سے بڑی عدالت، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں اسرائیل کے غزہ کی ناکہ بندی کے بارے میں سماعت کا آغاز کیاہے۔ یہ سماعتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر شروع کی گئی ہیں، جس میں اسرائیل کی قانونی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی ہمدردی کی امداد کو یقینی بنائے اور اس کی سہولت فراہم کرے۔ اس تناظر میں، غزہ میں جاری تنازعہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اسرائیل پر الزام ہے کہ اس نے امداد کے داخلے کو روک کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔ آج صبح 10 بجے (دی ہیگ کے وقت) شروع ہونے والی ان سماعتوں کو اقوام متحدہ کی ویب ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔
غزہ کی صورتحال اس وقت انتہائی سنگین ہے، جہاں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 51,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے تقریباً 20,000 جنگجوؤں کو ہلاک کیا، لیکن اس کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ دوسری جانب، ایک ہفتہ طویل سماعتوں کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (UNRWA) کو اپنے علاقے میں کام کرنے سے روک دیا تھا، جسے عالمی برادری نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس ناکہ بندی سے غزہ میں انسانی امداد کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے، اور بھوک اور بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے ان سماعتوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی نمائندے سار نے کہا کہ یہ عدالت “مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے” اور اسے “شرمناک” قرار دیا۔ ان کا موقف ہے کہ اسرائیل اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے اور امداد کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کر سکتا ہے، جیسے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)، لیکن UNRWA کے بارے میں تحفظات ہیں کہ اسے حماس نے متاثر کیا ہوا ہے۔ تاہم، عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سماعتیں اسرائیل کے بین الاقوامی قانون کے سامنے احتساب کا ایک اہم امتحان ہیں، خاص طور پر جولائی 2024 میں آئی سی جے کے اس فیصلے کے بعد کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیر قانونی ہے۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق آج سماعتوں کا پہلا دن ہے، اور 40 سے زائد ممالک کے وکلاء اسرائیل کے اقدامات کے خلاف دلائل پیش کر رہے ہیں۔ فلسطینی حقوق کے گروپوں، جیسے کہ الحق، نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل اس مشاورتی رائے کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کی جنرل اسمبلی میں نشست ختم کی جائے۔ دریں اثنا، غزہ میں امدادی صورتحال بدستور خراب ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق، ناکہ بندی کے باعث خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ یہ سماعتیں، جو غیر پابند ہونے کے باوجود قانونی اہمیت رکھتی ہیں، عالمی رائے عامہ اور امدادی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ…
22 ستمبر سے نئی دہلی میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے سربراہان کی تیسری قومی…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر…
گمبھیر نے ملاقات کو انتہائی خوشگوار قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر…
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، مرکزی ملزم سمیت 5…
ولادیمیر پوتن یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے رکن نہیں ہیں، تاہم وہ 2008 سے 2012 تک…