قومی

Parliament Attendance: اب ایوان سے غیر حاضری ممکن نہیں، بجٹ اجلاس سے نافذ ہوگا اسمارٹ حاضری نظام

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں نظم و ضبط اور اراکین کی فعال شرکت کو یقینی بنانے کے لیے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ اجلاس 2026 سے اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے حاضری درج کرانے کا نیا اسمارٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت اب کوئی بھی رکن ایوان کے باہر یا لابی سے حاضری درج نہیں کرا سکے گا۔ ہر رکن کو صرف ایوان کے اندر اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر ہی حاضری لگانی ہوگی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے منگل کے روز لکھنؤ میں منعقد 86ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں اس فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے بجٹ اجلاس میں یہ نیا نظام پوری طرح نافذ ہو جائے گا، جس کا مقصد اراکین کو پارلیمانی کارروائی میں سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ شریک ہونے کی ترغیب دینا ہے۔

اب تک یہ نظام رائج تھا کہ اراکین پارلیمنٹ ایوان کی لابی میں جا کر بھی اپنی حاضری درج کرا سکتے تھے، جس کے باعث کئی بار ایوان کے اندر کارروائی کے دوران اراکین کی حقیقی موجودگی مشکوک رہتی تھی۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ اب اس پرانی روایت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، تاکہ حاضری صرف رسمی کارروائی نہ رہے بلکہ اراکین کی عملی شمولیت کی عکاس ہو۔ اوم برلا نے اس موقع پر کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثر اپوزیشن کی جانب سے مختلف معاملات پر ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے سبب کئی دنوں تک کارروائی متاثر ہوتی رہی ہے۔ نئے نظام کے تحت اگر ایوان کی کارروائی تعطل کا شکار ہو یا اجلاس ملتوی کر دیا جائے تو اس دوران کوئی بھی رکن اپنی حاضری درج نہیں کرا سکے گا، چاہے تعطل کی وجہ کچھ بھی ہو۔ اس سے اراکین کو ایوان کے اندر موجود رہنے اور کارروائی کو جاری رکھنے میں تعاون کرنے کی ترغیب ملے گی۔

اسپیکر نے زور دے کر کہا کہ حاضری کا مطلب محض پارلیمنٹ کی عمارت میں موجود ہونا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ عوامی نمائندے کی سنجیدہ اور فعال شمولیت کا ثبوت ہونا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت لوک سبھا کے ہر رکن کی نشست پر پہلے سے نصب ڈیجیٹل کنسول کے ذریعے ہی حاضری درج کی جا سکے گی۔ لابی، راہداری یا کسی اور جگہ سے حاضری لگانے کا سلسلہ اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

کانفرنس سے خطاب کے دوران اوم برلا نے یہ بھی بتایا کہ پارلیمنٹ نے ملک بھر کی قانون ساز اسمبلیوں میں قواعد و ضوابط اور روایات میں یکسانیت لانے کے امکانات پر غور کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے ریاستی اسمبلیوں کے درمیان صحت مند مسابقت کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کی روح کو زندہ رکھنے کے لیے ایک ذمہ دار، جامع اور دور اندیش قانون ساز ادارہ نہایت ضروری ہے، تاکہ عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد مضبوط ہو۔ قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 28 جنوری 2026 سے شروع ہونے والا ہے، جس میں یہ نیا اسمارٹ حاضری نظام پہلی بار نافذ کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

1 hour ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

3 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

4 hours ago