اوڈیشہ کی سیاست میں ایک بارپھربڑا سیاسی حادثہ ہوا ہے۔ بی جے پی کے ہاتھوں اقتدارگنوانے والے بیجوجنتا دل (بی جے ڈی) کوایک اوربڑا جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے سینئرلیڈراورراجیہ سبھا رکن دیباشیش سامنت رائے نے آج پیر(25 مئی) کے روزپارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے نائب صدرجمہوریہ اورراجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے ملاقات کرکے راجیہ سبھا کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ وہ پارٹی کے سربراہ نوین پٹنائک کے قریبی لیڈران میں شمارکئے جاتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔
نوکرشاہ سے لیڈربنے دیباشیش سامنت رائے نے پارٹی سے استعفیٰ دینے کے دوران الزام لگایا کہ پارٹی کے اندرانہیں جان بوجھ کرنظراندازاورنیچا دکھایا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پارٹی کوان کی خدمات کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔ ان کا یہ استعفیٰ تب آیا ہے، جب کچھ ماہ پہلے ہی 2 دیگرراجیہ سبھا اراکین پارلیمنٹ (سجیت کماراورممتا مہنتا) نے بھی پارٹی چھوڑدی۔ سجیت کماراورممتا مہنتا بعد میں بی جے پی میں شامل ہوگئے اورپارٹی کے ٹکٹ پرراجیہ سبھا کے لئے منتخب کئے گئے تھے۔
نوین پٹنائک کوخط میں کیا لکھا؟
وہ 2 بار(سال 2009 اور2014) میں ایم ایل اے منتخب کئے گئے۔ اس کے بعد پارٹی نے انہیں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (راجیہ سبھا) بھیجا۔ راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرنے کے لئے انہوں نے نوین پٹنائک کے تئیں شکریہ ادا کیا۔ وہ اپریل 2024 میں راجیہ سبھا کے لئے منتخب کئے گئے۔ اس سے پہلے دیباشیش سامنت رائے نے نومبر2025 میں پارٹی کے سینئرسٹیزن سیل کے نائب صدرعہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت بھی انہوں نے پارٹی کے کام کاج سے متعلق ناراضگی کا اظہارکیا تھا۔ بی جے پی ڈی سربراہ نوین پٹنائک کولکھے استعفیٰ میں انہوں نے راجیہ سبھا بھیجنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں غیرمنقسم کٹک ضلع کے لوگوں کی خدمت کرنے اورقومی سطح پراوڈیشہ کے موضوع کواٹھانے کا موقع ملا، اس کے لئے وہ ہمیشہ شکرگزاررہیں گے۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا، ”میں نے ہمیشہ پارٹی کے مفاد میں پوری لگن اورایمانداری کے ساتھ کام کیا ہے تاہم اب کچھ عرصے سے میں نے محسوس کیا ہے کہ مجھے پارٹی کے اندرمنظم طریقے سے کمزورکیا جا رہا ہے اوراب میری ضرورت نہیں سمجھی جا رہی ہے، اس لئے عوامی مفاد میں میں نے یہ مشکل فیصلہ لیا ہے۔ آپ سبھی سےیہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرا استعفیٰ قبول کرلیں۔“
پارٹی سے استعفیٰ کی بڑی وجہ کیا؟
حالانکہ سامنت رائے نے سامنت رائے نے اپنے استعفیٰ کے پیچھے کوئی بڑی وجہ واضح طورپر نہیں بتائی، لیکن سیاسی گلیاروں میں کئی وجوہات سے متعلق قیاس آرائی ہے۔ ان میں وقف بل پربی جے ڈی کا رخ، تنظیم (سنگٹھن) میں وی کے پانڈین کے بڑھتے اثرکی وجہ سے ناراضگی اورباربارکوشش کے باوجود نوین پٹنائک سے ملاقات کا وقت نہیں مل پانا بڑی وجہ بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی میں نظم وضبط پرناراضگی، نوجوان لیڈروں کوزیادہ مواقع دینے کا مطالبہ، سنترپت مشرا کوراجیہ سبھا کے لیے نامزد کرنا اورمانس منگراج کوبی جے ڈی پارلیمانی پارٹی کا لیڈربنانے جیسے معاملات کوبھی ان کی ناراضگی کی وجہ قراردیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
فلم نے دنیا بھر میں 347 کروڑ روپے کا کاروبار کیا، کئی ریاستوں میں ٹیکس…
مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی…
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…
اتر پردیش کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کے اوم پرکاش راج بھر کے بیان…
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ…
22 ستمبر سے نئی دہلی میں اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے سربراہان کی تیسری قومی…