قومی

NEET Exam Cancellation: نیٹ یو جی امتحان منسوخ ہونے پر طلبہ تنظیموں میں ناراضگی، این ایس یو آئی نے این ٹی اے کو بند کرنے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا کیا مطالبہ

نئی دہلی: ملک بھر میں 3 مئی کو منعقد ہونے والا میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ یو جی 2026 منسوخ کیے جانے کے بعد مختلف طلبہ تنظیموں نے پیپر لیک اور امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ امتحان میں اس طرح کی بے ضابطگیاں لاکھوں طلبہ کے لیے شدید مایوسی کا سبب بنی ہیں، کیونکہ وہ پورے سال اس امتحان کی تیاری میں مصروف رہے تھے۔ ایسے میں امتحان کا منسوخ ہونا اور پرچہ لیک ہونے کی خبریں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے ذہنی اور مالی طور پر بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہیں۔

این ایس یو آئی کا حکومت پر حملہ

نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے کہا کہ اس کی مسلسل جدوجہد کے بعد حکومت کو نیٹ امتحان منسوخ کرنا پڑا، لیکن صرف امتحان رد کردینا انصاف نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق جب تک پیپر لیک کرانے والے نیٹ ورک، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جواب دہی اور اس پورے معاملے میں شامل عناصر کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، طلبہ کی لڑائی جاری رہے گی۔ این ایس یو آئی نے این ٹی اے کو بند کرنے، مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے اور پورے پیپر لیک اسکینڈل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ امتحان کی منسوخی اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے پیمانے پر گڑبڑ ہوئی، لیکن ابھی بھی کئی سوالات کے جواب سامنے نہیں آئے ہیں۔

اے بی وی پی نے بھی ظاہر کی تشویش

دوسری جانب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے بھی نیٹ یو جی 2026 سے متعلق بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور امتحان کی ساکھ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مختلف رپورٹس نے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ اور والدین میں امتحانی نظام کی شفافیت کو لے کر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اے بی وی پی کے مطابق داخلہ امتحانات کی پاکیزگی اور اعتبار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہے۔

سخت کارروائی اور شفافیت کا مطالبہ

طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی ایجنسیاں اس معاملے کی جانچ کریں اور اس میں شامل افراد، امتحانی مافیا اور معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، جانچ مکمل ہونے تک این ٹی اے پورے معاملے میں شفافیت برقرار رکھتے ہوئے طلبہ اور والدین کے سامنے تمام حقائق واضح کرے۔ اے بی وی پی کے قومی جنرل سکریٹری وریندر سولنکی نے کہا کہ لاکھوں طلبہ برسوں کی محنت کے بعد نیٹ جیسے امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، اس لیے اس طرح کی بے ضابطگیاں ان کے مستقبل اور حوصلے پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے قومی سطح کے امتحانات میں تکنیکی سکیورٹی، سوالیہ پرچوں کی رازداری اور امتحانی مراکز کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Minor gang-raped near Kalkaji Temple: کالکاجی مندر کے قریب نابالغ لڑکی سے اجتماعی زیادتی، انکاؤنٹر کے بعد ایک ملزم گرفتار

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…

2 minutes ago

Jain Acharya Lokesh Ji: سکندرآباد میں وکست بھارت 2047 سیمینار، آچاریہ لوکیش بولے- سناتن روایت کا اقدار ہی ترقی یافتہ بھارت کی فکری بنیاد

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…

55 minutes ago

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

10 hours ago

National Film Awards Ceremony: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ایکتا نگر پہنچیں، منگل کو 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز تقریب میں ہوں گی شریک

صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…

11 hours ago