نئی دہلی: ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری امتحان نیٹ یو جی 2026 کے پرچہ لیک معاملے نے پورے ملک میں سیاسی اور تعلیمی ہلچل مچا دی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد نیٹ یو جی 2026 کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس معاملے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلا جرم ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نیٹ 2026 امتحان کی منسوخی نے 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی محنت، قربانی اور خوابوں کو برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی باپ نے اپنے بچے کی تعلیم کے لیے قرض لیا، کسی ماں نے زیورات بیچ دیے اور لاکھوں طلبہ نے رات رات بھر جاگ کر تیاری کی، لیکن بدلے میں انہیں پرچہ لیک، حکومتی لاپروائی اور تعلیمی نظام میں منظم بدعنوانی ملی۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ ہر بار پیپر مافیا بچ نکلتے ہیں جبکہ ایماندار اور محنتی طلبہ سزا بھگتتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نوجوانوں کی قسمت محنت کے بجائے پیسے اور سیاسی رسوخ سے طے ہوگی تو پھر تعلیم کی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ”امرت کال“ کے نعرے پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ مبینہ امرت کال دراصل ملک کے لیے ”وش کال“ یعنی زہریلا دور بن چکا ہے۔ دوسری جانب این ٹی اے نے وضاحت دی ہے کہ نیٹ یو جی 2026 کا دوبارہ امتحان جلد منعقد کیا جائے گا۔ ایجنسی کے مطابق امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا اور طلبہ سے لی گئی رجسٹریشن فیس بھی واپس کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق دوبارہ امتحان جون کے مہینے میں ہی کرائے جانے کا امکان ہے تاکہ داخلہ عمل میں زیادہ تاخیر نہ ہو۔
راجستھان کے سیکر ضلع سے اس معاملے کی شروعات ہوئی جہاں مبینہ طور پر ایک ”گیس پیپر“ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ اگرچہ اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے اسے براہ راست پیپر لیک ماننے سے انکار کیا، تاہم تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ وائرل گیس پیپر کے تقریباً 120 سوالات اصل امتحان میں لفظ بہ لفظ شامل تھے۔ اس انکشاف کے بعد طلبہ اور والدین نے ملک بھر میں شدید احتجاج کیا اور امتحان منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
بڑھتے دباؤ کے بعد مرکزی حکومت نے معاملے کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کر دی ہیں۔ سی بی آئی اب یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے کیسے باہر آیا اور اس کے پیچھے کون لوگ شامل تھے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف طلبہ کے اعتماد کو توڑتے ہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ لاکھوں طلبہ اب دوبارہ امتحان کی تیاری میں مصروف ہیں، تاہم ان میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یونیورسٹی کے 10 فیکلٹیز کے طلبہ کو مجموعی طور پر 2,320 ڈگریاں دی گئیں، جن…
ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…
دہلی میں مظاہروں کے بعد زیر بحث آنے والی قانونی اصطلاحات کو سمجھیں، نئے فوجداری…
پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…
منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…
ڈاکٹر شالنی علی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی…