قومی

Notices issued to 300 people :وقف بل کے خلاف مظفرنگر میں احتجاج کرنے والے 300 افراد کو نوٹسز جاری،2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کاحکم

اتر پردیش کے مظفرنگر ضلع میں حکام نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف احتجاج کرنے والے 300 افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔ یہ احتجاج 28 مارچ کو جمعہ کی نماز کے دوران مساجد میں سیاہ پٹیاں پہن کر کیا گیا تھا۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے اتوار، 6 اپریل 2025 کو بتایا کہ ان افراد سے 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، جن افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، انہوں نے رمضان کے آخری جمعہ کی نماز کے دوران، یعنی 28 مارچ کو، مظفرنگر کی مختلف مساجد میں اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ یہ احتجاج اس بل کے پارلیمنٹ میں منظور ہونے کے بعد سامنے آیا، جسے راجیہ سبھا نے 13 گھنٹے سے زائد بحث کے بعد منظور کیا تھا۔

سٹی مجسٹریٹ وکاس کیشیپ نے پولیس کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ نوٹسز جاری کیے اور متعلقہ افراد کو 16 اپریل کو عدالت میں پیش ہو کر 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مزید افراد کی شناخت بھی کی ہے، جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔واضح رہے کہ وقف (ترمیمی) بل 2025 کو پارلیمنٹ نے 4 اپریل کی صبح منظور کیا تھا۔ لوک سبھا نے اسے 288-232 ووٹوں سے پاس کیا، جبکہ راجیہ سبھا میں 128 اراکین نے حمایت اور 95 نے مخالفت کی۔ اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے ہے، بلکہ اس کا مقصد وقف املاک کے انتظام کو بہتر بنانا، شفافیت لانا، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔تاہم، اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے اس بل کی شدید مخالفت کی اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مذہبی خودمختاری اور جائیداد کے حقوق پر حملہ ہے۔

مظفرنگر میں احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بل وقف بورڈز کے اختیارات کو کمزور کرتا ہے اور غیر مسلم اراکین کو ان کے انتظام میں شامل کرنے کی تجویز سے مسلم کمیونٹی کے حقوق متاثر ہوں گے۔ سیاہ پٹیاں پہننا ان کا پرامن احتجاج کا طریقہ تھا، لیکن پولیس نے اسے قانون و انتظام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کارروائی شروع کی۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی) ستیہ نارائن پرجاپت نے میڈیا کو بتایا کہ یہ نوٹسز امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے مزید افراد کی شناخت کی جا رہی ہے، اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، خاص طور پر جب الیکشن کا موسم قریب ہے اور رم نومی جیسے تہوار منائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں نے اس کارروائی کی حمایت کی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے “جمہوریت پر حملہ” قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما سہیل انور نے کہا کہ “سیاہ پٹی پہننا ایک پرامن احتجاج ہے، اسے جرم قرار دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔” دوسری طرف، بی جے پی کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے فائدے کے لیے ہے اور اس کی مخالفت سیاسی فائدے کے لیے کی جا رہی ہے۔مظفرنگر کے مقامی لوگوں میں اس کارروائی کے حوالے سے مخلوط جذبات ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ سخت اقدام غیر ضروری ہے، جبکہ دیگر اسے قانون کی بالادستی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے، جہاں کچھ صارفین نے اسے “اظہار رائے کی آزادی پر قدغن” قرار دیا ہے۔

Rahmatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago