نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ کے اُس حکم پر روک لگا دی ہے، جس کے تحت 2017 کے اُنّاؤ نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں بی جے پی کے معزول رہنما کلدیپ سنگھ سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت دی گئی تھی۔
متاثرہ کے وکیل کا ردعمل
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اُنّاؤ عصمت دری کیس کی متاثرہ لڑکی کے وکیل محمود پراچہ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے دی گئی یہ روک متاثرہ کو وقتی راحت ضرور دیتی ہے، مگر کئی سنگین خدشات اب بھی برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’میں متاثرین کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہمیں ایک معمولی سی راحت ملی ہے۔ اسے فتح نہیں کہا جا سکتا، البتہ ہمیں کچھ دیر سانس لینے کا وقت ضرور ملا ہے۔‘‘
سی بی آئی پر تنقید
محمود پراچہ نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے عدالت میں نہایت محدود نکات پر دلائل دیے اور متاثرہ کے قانونی مشیروں سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’’سی بی آئی نے بہت محدود بنیاد پر اپنا مؤقف رکھا اور ہمارے سب سے مضبوط دلائل پیش نہیں کیے۔ ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا گیا۔ متاثرہ کے حق میں اتنے شواہد موجود ہیں کہ کوئی بھی عدالت اس کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے۔‘‘
مقدمے کی اصل بنیادوں پر سماعت نہیں ہوئی
پراچہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے مقدمے کی اصل بنیادوں اور میرٹ پر غور نہیں کیا: ’’عدالت نے ہمیں مقدمے کے بنیادی پہلوؤں پر سنا ہی نہیں۔ سی بی آئی نے صرف کیس کے ایک حصے پر بات کی ہے، جب کہ مکمل معاملہ ہمارے پاس ہے۔ ہمیں اس کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔ اس لیے ہم اس فیصلے کو متاثرہ کی فتح نہیں مان سکتے۔‘‘
متاثرہ کی حالت پر اظہار تشویش
متاثرہ لڑکی کی حالت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے پراچہ نے سوال کیا کہ کیا واقعی یہ حکم کسی بڑی راحت کے زمرے میں آتا ہے؟ انہوں نے کہا: ’’میں اس بات کو ملک کے عوام اور قانونی برادری پر چھوڑتا ہوں کہ وہ خود طے کریں کہ کیا یہ ہمارے لیے بڑی راحت ہے۔ میری رائے میں ایسا نہیں ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں خوش ہوں جب لڑکی کو سی آر پی ایف اپنی تحویل میں لے چکی ہے؟ مجھے تو اس حکم کے بارے میں اس سے بات کرنے کا موقع بھی نہیں ملا، پھر آپ کیسے توقع کرتے ہیں کہ میں خوش ہوں؟‘‘
سپریم کورٹ کی آبزرویشن
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل تین رکنی تعطیلاتی بنچ سی بی آئی کی اس عرضی پر سماعت کر رہا تھا، جس میں دہلی ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کر کے انہیں ضمانت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے نوٹ کیا: ’’ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ مجرم آئی پی سی کی دفعہ 304 (قتل) کے تحت بھی سزا یافتہ ہے اور اس معاملے میں اب بھی حراست میں ہے۔ ان مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم متنازع حکم پر عمل درآمد روک دیتے ہیں۔ فریق مخالف کو رہا نہیں کیا جائے گا۔‘‘
نوٹس جاری، دو ہفتوں میں جواب طلب
سپریم کورٹ نے کلدیپ سنگھ سینگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سی بی آئی کی عرضی پر دو ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ اتر پردیش کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو دسمبر 2019 میں اُنّاؤ عصمت دری کیس میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگرچہ انہیں عصمت دری کیس میں ضمانت مل گئی تھی، تاہم ایک علیحدہ سی بی آئی کیس میں قتل کے الزام میں دس سالہ سزا کاٹنے کی وجہ سے وہ جیل میں ہی بند ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…