قومی

Congress demands Environment Minister’s resignation: اراولی معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایت کا کانگریس نے خیر مقدم کیا، وزیر ماحولیات سے استعفیٰ کا مطالبہ

نئی دہلی: انڈین نیشنل کانگریس نے پیر کے روز اراولی پہاڑی سلسلے کی نئی تعریف سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات کا خیر مقدم کیا ہے، جسے اس وقت مودی حکومت آگے بڑھا رہی تھی۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ اس معاملے کو مزید تفصیلی مطالعے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مجوزہ ازسر نو تعریف کی فاریسٹ سروے آف انڈیا، سپریم کورٹ کی مرکزی بااختیار کمیٹی اور خود امیکس کیوری نے مخالفت کی تھی۔

جے رام رمیش کا بیان

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’انڈین نیشنل کانگریس اراولی کی نئی تعریف سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات کا خیر مقدم کرتی ہے، جسے مودی حکومت آگے بڑھا رہی تھی۔ اب اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس نئی تعریف کی مخالفت فاریسٹ سروے آف انڈیا، سپریم کورٹ کی مرکزی بااختیار کمیٹی اور خود امیکس کیوری نے کی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’فی الحال ایک عارضی راحت ملی ہے، لیکن اراولی کو کانکنی، رئیل اسٹیٹ اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کھولنے کی مودی حکومت کی کوششوں کے خلاف جدوجہد کو مستقل طور پر جاری رکھنا ہوگا۔ آج سپریم کورٹ کی ہدایت امید کی ایک کرن ہے۔‘‘

وزیرماحولیات سے استعفے کا مطالبہ

جے رام رمیش نے مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ’’ان تمام دلائل کو مسترد کرتا ہے جو وزیر صاحب اراولی کی نئی تعریف کے حق میں دیتے آرہے تھے۔‘‘

سپریم کورٹ کا فیصلہ: سابقہ حکم معطل

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 نومبر کو جاری اپنے اس سابقہ فیصلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جس میں مرکزی وزارت ماحولیات کی جانب سے پیش کی گئی اراولی پہاڑی سلسلے کی تعریف کو قبول کیا گیا تھا۔ نومبر میں اس تعریف کو قبول کیے جانے کے بعد اراولی کے بڑے حصے میں ضابطہ بند کانکنی کی راہ ہموار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

ماہرین کی نئی کمیٹی اور ریاستوں کو نوٹس

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے اراولی سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی نئی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت اور اراولی سے جڑی چار ریاستوں راجستھان، گجرات، دہلی اور ہریانہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

6 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

7 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

7 hours ago