سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انشورنس کمپنیاں ان افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کی ذمہ دار نہیں ہیں جو اپنی ہی تیز رفتار اور لاپرواہ ڈرائیونگ کے نتیجے میں مر جاتے ہیں۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور آر مہادیون کی بنچ نے تیز رفتاری سے کار چلاتے ہوئے ہلاک ہونے والے شخص کی بیوی، بیٹے اور والدین کی طرف سے انشورنس کمپنی سے کی جانب سے انھیں 80 لاکھ کا معاوضہ دینے کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔
سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے گزشتہ سال 23 نومبر کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ، جس میں متوفی کے قانونی ورثاء کی جانب سے معاوضے کا دعویٰ کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا گیا تھا۔ بنچ نے بدھ کو دیے گئے حکم میں کہا کہ ’’ہم ہائی کورٹ کی طرف سے دیے گئے غیر قانونی فیصلے میں مداخلت کرنے پر مائل نہیں ہیں۔ اس لیے خصوصی رخصت کی درخواست کو خارج کیا جاتا ہے۔‘‘
کیا ہے پورا معاملہ؟
واضح رہے کہ 18 جون 2014 کواین ایس رویشا نامی خاتون ملسندرا گاؤں سے آراسیکیرے شہر جا رہی تھی، جب یہ حادثہ پیش آیا۔ اس کے والد، بہن اور اس کے بچے بھی اسی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ عدالت نے پایا تھا کہ رویشا نے ٹریفک قوانین پر عمل کیے بغیر لاپرواہی سے گاڑی چلائی اور گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھی، جس کی وجہ سے حادثہ ہوا۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ چوں کہ یہ حادثہ خود متوفی کی تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے کی وجہ سے پیش آیا تھا اور وہ خود کو ہی اذیت دینے والی تھی، اس لیے قانونی ورثا اس کی موت کے لیے کسی قسم کے معاوضے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ بصورت دیگر یہ خلاف ورزی کے مرتکب شخص کو اس کی غلطیوں کے لیے معاوضہ دینے کے مترادف ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…