نئی دہلی :لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے لوک سبھا سیکریٹریٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس جمع کرایا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ قابل ذکر بات یےہ ہے کہ اس نوٹس پر راہل گاندھی کے دستخط موجود نہیں ہیں، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ گیا کہ انہوں نے دستخط کیوں نہیں کیے۔ اب کانگریس نے اس کی وجہ واضح کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق آئین کے آرٹیکل 94(سی) کے تحت اپوزیشن نے یہ نوٹس جمع کرایا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے لوک سبھا اسپیکر پر امتیازی رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق اس تحریک میں چار نکات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس میں 2 فروری کو قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے سے روکے جانے کا الزام شامل ہے۔ 3 فروری کو آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی کا معاملہ بھی نوٹس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 4 فروری کو حکمراں جماعت کے ایک رکن کی جانب سے دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف کی گئی قابل اعتراض تقریر پر اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود کوئی کارروائی نہ کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ سے متعلق کیے گئے تبصرے کو بھی تحریک کی بنیاد میں شامل کیا گیا ہے۔
راہل گاندھی کے دستخط نہ کرنے کے معاملے پر نیوز ایجنسی اے این آئی نے کانگریس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی جمہوریت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے نوٹس پر دستخط کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی وجہ سے راہل گاندھی نے اس نوٹس پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ محمد جاوید نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس مطلوبہ تعداد نہیں ہے، لیکن اپوزیشن ایک پیغام دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا گیا، جب کہ چیئر سے غیر جانبدارانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ راہل گاندھی نے دستخط نہیں کیے، لیکن 118 ارکانِ پارلیمنٹ نے اس تحریک پر دستخط کیے ہیں۔ ٹی ایم سی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے دستخط موجود نہیں، لیکن وہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔
قواعد کے مطابق، کسی بھی لوک سبھا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایوان میں واضح اکثریت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن اتحاد (انڈیا) کے پاس تقریباً 230 ارکان ہیں، جبکہ اکثریت فی الحال حکومت کے حق میں ہے۔ اسی وجہ سے اس عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی آنے کا امکان کم بتایا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…