نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے تجارتی شعبے میں تیزی کے ساتھ ایک تاریخی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف ملک کا گھریلو کاروبار پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ مضبوط ہوا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی بھارتی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بھارتی معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ پیوش گوئل نے یہ بات آل انڈیا ٹریڈرز کنفیڈریشن (سی اے آئی ٹی) کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ یہ وفد رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال کی قیادت میں دہلی کے وانجیہ بھون میں مرکزی وزیر سے ملا تھا۔ ملاقات کے دوران وزیر نے کہا کہ بھارتی تاجر اب صرف ملکی بازاروں تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان قائم کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک اہم عبوری تجارتی معاہدے کا خاکہ تیار کیا گیا ہے، جو بھارتی معیشت کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے بھارتی برآمد کنندگان کو امریکی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس کی مجموعی مالیت 30 ٹریلین ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت بھارت کو عالمی سپلائی چین میں مزید مضبوط بنائے گی۔ پیوش گوئل نے اس موقع پر بتایا کہ سی اے آئی ٹی کی جانب سے یکم مئی سے چار مئی تک بھارت منڈپم میں ’’بھارتیہ تجارت مہوتسو‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہوتسو وزیر اعظم مودی کے ’’دیسی سامان خریدو اور بیچو‘‘ کے پیغام کو ملک اور بیرون ملک تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر تجارت نے کہا کہ یہ بڑا قومی پروگرام بھارت کے تجارت، صنعت اور خدمات کے شعبے کی طاقت اور صلاحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ بھارتیہ تجارت مہوتسو بھارتی معیشت کو مزید مضبوط کرنے میں مؤثر ثابت ہو۔ پیوش گوئل نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس 25 نومبر کو نئی دہلی میں سی اے آئی ٹی کی قومی کونسل کی میٹنگ کے دوران انہوں نے اس طرح کے بڑے قومی تجارتی انعقاد کی تجویز دی تھی، جسے اب عملی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارم سے تاجروں کو آپس میں جڑنے اور نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
ملاقات کے دوران سوَدیشی مصنوعات کو فروغ دینے، چھوٹے اور درمیانی درجے کے صنعتوں، اسٹارٹ اپس اور کاریگروں کو ڈیجیٹل ادائیگی، بڑے بازاروں تک رسائی اور کاروباری نیٹ ورکنگ کے ذریعے بااختیار بنانے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم کے ’’میک اِن انڈیا‘‘ اور ’’لوکل ٹو گلوبل‘‘ وژن کو تقویت دیں گے۔ سی اے آئی ٹی کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے بتایا کہ چار روزہ اس مہوتسو میں تقریباً 2200 اسٹال لگائے جائیں گے، جن میں ملک بھر کی مصنوعات اور خدمات کی نمائش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس تجارتی میلے میں لگ بھگ دس لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے، جن میں قریب دو لاکھ تاجر اور کاروباری حضرات شامل ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…