پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد نتیش کمار کی قیادت والی جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) میں استعفوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جے ڈی یو کے اراکین پارلیمنٹ نے ایوان میں وقف بل کی حمایت کی تھی۔ اس کی مخالفت میں جمعہ تک پانچ بڑے لیڈرپارٹی چھوڑچکے ہیں۔ اس کے بعد 20 سے زیادہ مسلم عہدیداران نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ استعفیٰ دینے والے لیڈران میں ندیم اختر، راجونیر، تبریزصدیقی علیگ، محمد شاہنوازملک اورمحمد قاسم انصاری شامل ہیں۔
بہارمیں کچھ ماہ بعد ہی اسمبلی الیکشن ہونے ہیں۔ ایسے میں یہ پارٹی کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔ جے ڈی یو کارکنان کے درمیان ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ پارٹی کو آنے والے وقت میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
پارٹی چھوڑنے والے لیڈران نے کیا کہا؟
راجو نیر نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ وہ جے ڈی یو کے ذریعہ وقف ترمیمی بل کی حمایت کرنے سے بہت مایوس ہیں اور انہوں نے اسے مسلمانوں پر ظلم کرنے والا کالا قانون کہا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کے لوک سبھا میں منظور ہونے اور حمایت ملنے کے بعد جے ڈی یو سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ انہوں نے ساتھ ہی پارٹی کی سبھی ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کی گزارش کی۔ تبریز حسن نے جمعہ کو جے ڈی یو سربراہ اوربہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو مخاطب اپنے استعفیٰ نامہ میں کہا کہ وقف ترمیمی بل کے لئے پارٹی کی حمایت نے مسلمانوں کے اعتماد کوتوڑدیا ہے، جومانتے تھے کہ یہ سیکولراقدارکے لئے کھڑے ہیں۔
تبریز صدیقی نے کہا- سیکولرشبیہ کو نہیں بچا پائے نتیش کمار