قومی

NGT seeks accountability: نوئیڈا میں انجینئر کی موت کے معاملے میں این جی ٹی نے جوابدہی طے کرنے کیلئے ازخود کارروائی شروع کی

نئی دہلی: ماحولیاتی ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی اور انتظامی سطح پر طویل غفلت کے معاملے میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے نوئیڈا کے سیکٹر 150 میں پانی سے بھرے گڑھے میں ایک سافٹ ویئر انجینئر کی موت پر ازخود (سوموٹو) کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ ٹریبونل نے اس معاملے میں ریاستی اور مقامی سطح کے متعدد محکموں سے جواب طلب کیا ہے۔

اخباری رپورٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج

جمعرات کو جاری حکم میں این جی ٹی کی پرنسپل بنچ کی صدارت کررہے چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو اور ماہر رکن اے سینتھل ویل نے 20 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کی بنیاد پر ایک اصل درخواست (اوریجنل ایپلکیشن) درج کی۔ رپورٹ کی سرخی تھی: ’’نوئیڈا سی ای او برطرف، وزیر اعلیٰ نے انجینئر کی ڈوب کر موت پر ایس آئی ٹی جانچ کے احکامات دیے۔‘‘

کیا ہے پورا معاملہ؟

این جی ٹی نے سافٹ ویئر انجینئر یووراج مہتا کی موت کے حالات کا نوٹس لیا، جو مبینہ طور پر دھند کے دوران ایک تجارتی مقام پر 90 ڈگری کے موڑ پر گاڑی کو گھماتے ہوئے پانی سے بھرے گڑھے میں گر گئے تھے۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ یہ زمین ابتدا میں ایک نجی مال منصوبے کے لیے مختص کی گئی تھی، لیکن گزشتہ تقریباً دس برسوں میں بارش کے پانی اور قریبی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فضلے کے اخراج کے باعث یہ علاقہ ایک تالاب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

اسٹارم واٹر مینجمنٹ منصوبہ، مگرعملدرآمد نہیں

بینچ نے مشاہدہ کیا کہ 2015 میں اتر پردیش محکمہ آبپاشی نے سروے اور معائنہ کے بعد اسٹارم واٹر مینجمنٹ پلان تیار کیا تھا، جس کے تحت اضافی پانی کو ہنڈن ندی میں منتقل کرنے کے لیے ایک ہیڈ ریگولیٹر تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ 2016 میں نوئیڈا اتھارٹی نے سروے اور ڈیزائن کے لیے 13.05 لاکھ روپے بھی جاری کیے، تاہم اس کے باوجود یہ منصوبہ آج تک نافذ نہیں ہو سکا۔ ٹریبونل کے مطابق ہائیڈرولک یا نیومیٹک گیٹس جیسے اہم فیصلے زیر بحث تو آئے، مگر عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

شدید آبی جماؤ اور رہائشی علاقوں کو نقصان

این جی ٹی نے کہا کہ اصلاحی اقدامات میں تاخیر کے سبب پورے علاقے میں شدید پانی جمع ہو گیا۔ قریبی کئی رہائشی سوسائٹیوں کے تہہ خانے زیر آب آ گئے، کیونکہ فعال ریگولیٹر نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی ندی میں منتقل نہیں ہو سکا۔ رہائشیوں نے الزام لگایا کہ نوئیڈا اتھارٹی نے بارہا شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جس سے ہنڈن ندی کے اُبال کے دوران پانی کے واپس بہنے کا خطرہ بڑھ گیا۔

ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی پر ابتدائی رائے

بینچ نے ابتدائی رائے قائم کرتے ہوئے کہا کہ اخباری رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق ماحولیات کے تحفظ کے قانون 1986 کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ معاملہ ماحولیاتی ضوابط اور قانونی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ٹریبونل نے سپریم کورٹ کے فیصلے میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی بمقابلہ انکتا سنہا و دیگر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ این جی ٹی کو عوامی اہمیت کے حامل ماحولیاتی معاملات میں ازخود کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔

کن محکموں کو فریق بنایا گیا

این جی ٹی نے اس معاملے میں نوئیڈا اتھارٹی، اتر پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ، اتر پردیش محکمہ آبپاشی، پرنسپل سکریٹری (ماحولیات) حکومت اتر پردیش اور ضلع مجسٹریٹ گوتم بدھ نگر کو فریق بنایا ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو اگلی سماعت سے کم از کم ایک ہفتہ قبل حلف نامے کے ذریعے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ٹریبونل نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی محکمہ وکیل کے ذریعے جواب داخل نہیں کرتا تو متعلقہ افسر کو ورچوئل طور پر پیش ہونا ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

36 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

2 hours ago