نئی دہلی: نیشنل فیڈریشن آف یوتھ موومنٹ (NFYM) نے قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) میں باضابطہ شکایت درج کراتے ہوئے دہلی میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ، غیر جانب دارانہ، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ شکایت میں دہلی پولیس کی جانب سے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے ضرورت سے زیادہ اور غیر متناسب استعمال سے متعلق رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں پیلٹ گن، الیکٹرو شاک لاٹھی، ضرورت سے زیادہ لاٹھی چارج، غیر قانونی حراست، جسمانی تشدد اور خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی جیسے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
صحافیوں، اساتذہ اور طبی رضاکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا بھی الزام
این ایف وائی ایم نے کمیشن کی توجہ ان رپورٹس کی جانب بھی مبذول کرائی ہے جن کے مطابق احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں، طلبہ کے ساتھ موجود اساتذہ، احتجاجی مقام پر موجود والدین اور ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹروں و طبی رضاکاروں کو بھی مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے دھمکانے، تشدد، کام میں رکاوٹ اور دیگر اقسام کے مبینہ ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت میں یہ تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے کہ کارروائی میں شامل متعدد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر نمایاں نام پلیٹ یا شناختی بیج نہیں لگا رکھے تھے، جبکہ پولیس کے ساتھ موجود بعض افراد مبینہ طور پر سادہ لباس میں تھے۔ این ایف وائی ایم نے کمیشن سے اپیل کی ہے کہ شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کے لیے ان الزامات کو بھی آزادانہ تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔
سی سی ٹی وی، باڈی کیمروں اور طبی ریکارڈ محفوظ رکھنے کا مطالبہ
تنظیم نے اپنی شکایت میں این ایچ آر سی سے معاملے کا ازخود نوٹس لینے اور پولیس تشدد و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تمام الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دینے کی اپیل کی ہے۔ این ایف وائی ایم نے سی سی ٹی وی فوٹیج، جہاں دستیاب ہو وہاں باڈی کیمروں کی ریکارڈنگ، طبی ریکارڈ، موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز اور دیگر متعلقہ شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ زخمی طلبہ، صحافیوں، اساتذہ، والدین، ڈاکٹروں، طبی رضاکاروں، عینی شاہدین اور آزاد مبصرین کے بیانات ریکارڈ کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ تنظیم نے کمیشن سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار پائے جانے والے افسران کے خلاف مناسب محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کی جائے، متاثرین کو معاوضہ، طبی علاج اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے، اور پرامن مظاہروں کے دوران جواب دہی مضبوط بنانے اور شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری رہنما اصول جاری کیے جائیں۔
’’پرامن احتجاج کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے‘‘
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے نیشنل فیڈریشن آف یوتھ موومنٹس (NFYM) کے چیئرمین مسیح الزماں انصاری نے کہا ’’پرامن احتجاج کا حق ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اور آئین اس کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ، ڈاکٹروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے اور والدین و اساتذہ کو تشدد یا دھمکی کے خوف کے بغیر طلبہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حق بھی اہم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’حالیہ احتجاج سے سامنے آنے والے الزامات انتہائی تشویش ناک ہیں اور ان کی منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ قانون کی حکمرانی اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے۔‘‘ این ایف وائی ایم نے امید ظاہر کی کہ قومی انسانی حقوق کمیشن ایک معتبر تحقیقات کو یقینی بنانے اور متاثرہ تمام افراد کے آئینی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…