قومی

Netherlands Makes History in PM Modi’s Presence: پی ایم مودی کی موجودگی میں نیدرلینڈز نے رقم کی تاریخ، گیارہویں صدی کے چول دور کی 24 نایاب پلیٹیں بھارت لوٹ رہیں ہیں

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی کے نیدرلینڈز دورے کے دوران بھارت کو اپنی ایک اور قیمتی تاریخی وراثت واپس مل گئی۔ نیدرلینڈز کی معروف لیڈن یونیورسٹی لائبریری نے گیارہویں صدی کے چول دور سے تعلق رکھنے والے 24 نایاب تانبے کے تاریخی پلیٹیں بھارت لوٹ رہیں ہیں۔ اس تاریخی تقریب میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ نیدرلینڈز کے وزیر اعظم بھی موجود تھے۔ ان نادر تامرا پتروں کی وطن واپسی کو بھارت کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اس موقع کو ہر بھارتی کے لیے فخر اور جذباتی لمحہ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چول سلطنت کے یہ تاریخی تانبے کے کتبے اب واپس بھارت آ رہے ہیں، جو ملک کی عظیم تہذیبی وراثت کی علامت ہیں۔ وزیر اعظم نے نیدرلینڈز حکومت اور خاص طور پر لیڈن یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا، جس نے تقریباً ڈیڑھ سو برس تک ان قیمتی نوادرات کو محفوظ رکھا۔

یہ تاریخی مجموعہ 21 بڑے اور 3 چھوٹے تانبے کی پلیٹیوں پر مشتمل ہے۔ ان پر زیادہ تر تحریریں قدیم تمل زبان میں کندہ ہیں، جب کہ کچھ حصے سنسکرت زبان میں بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کتبے عظیم چول حکمراں راجندر چول اول کے دور سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں ان کے والد راجاراجا چول اول کی ایک زبانی یقین دہانی کو باضابطہ سرکاری شکل دی گئی تھی۔ان تانبے کی پلیٹوں کو اس دور کے شاہی سرکاری دستاویزات مانا جاتا ہے۔ ان میں تمل ناڈو کے ناگاپٹنم میں واقع “چولامنّی ورم وہار” نامی بدھ خانقاہ کو “آنئی منگلم” گاؤں عطیہ کیے جانے کی مکمل تفصیلات درج ہیں۔ یہ دستاویزات نہ صرف چول سلطنت کی مضبوط انتظامی اور عدالتی نظام کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کی عظیم سمندری طاقت اور ثقافتی عظمت کا بھی ثبوت ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق چول سلطنت جنوبی بھارت کی سب سے طاقتور سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، جس نے بحری تجارت اور ثقافت کے میدان میں دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں چول تہذیب کو آج بھی بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

لیڈن یونیورسٹی میں یہ تاریخی نوادرات 19ویں صدی کے وسط سے محفوظ رکھے گئے تھے۔ اب ان کی بھارت واپسی کو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی ایک بڑی مثال مانا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس اقدام کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی بیرون ملک موجود بھارتی نوادرات کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

5 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

5 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

6 hours ago