نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT)نے ساتویں جماعت کے لیے سماجی سائنس کی ایک نئی نصابی کتاب جاری کی ہے، جس میں دہلی سلطنت اور مغلوں سے متعلق ابواب کو حذف کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ قدیم ہندوستانی خاندانوں اور ثقافتی ورثے کو فوقیت دی گئی ہے۔ نئی نصابی کتاب، جس کا عنوان ’’ایکسپلورنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ، پارٹ-1‘‘ ہے، تاریخ، جغرافیہ اور سماجی اور سیاسی زندگی سے متعلق پرانی تین کتابوں کی جگہ لے گی۔
یہ تبدیلیاں قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور قومی نصاب کے فریم ورک کے تحت ایک وسیع تر نصاب کی اصلاح کا حصہ ہیں۔ گزشتہ سال کلاس 3 اور کلاس 6 کی کتابوں کی تجدید کے بعد 2025-26 تعلیمی سال کے لیے کلاس 4 اور کلاس 7 کے لیے نئی نصابی کتابیں متعارف کرائی گئی ہیں۔
کمبھ میلے کا ذکر ہے شامل
کلاس 7 کی نئی کتاب میں ’’ہندوستانی اخلاقیات‘‘ پر فوکس کرتے ہوئے مگدھ، موریہ، شونگا اور ساتواہن خاندان جیسے موضوعات کو متعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں اتر پردیش کے پریاگ راج میں منعقدہ 2025 کے مہا کمبھ کے حوالے بھی شامل ہیں اور اس میں سنسکرت کی اصطلاحات جیسے جناپدا، سمراجا، ادھیرجا اور راجادھیراجا شامل ہیں۔
یہ کتاب 1900 قبل مسیح سے 9ویں صدی عیسوی تک کے دور کا احاطہ کرتی ہے، جس کا اختتام گپتا سلطنت پر ہوتا ہے۔ دی پرنٹ نے این سی ای آر ٹی کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اس نصابی کتاب کا دوسرا حصہ آنے والے مہینوں میں جاری کیا گیا جائے گا، جس میں اور موضوعات کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔ اہلکار نے کہا ’’پارٹ-1 میں 12 ابواب ہیں، جو تعلیمی سیشن کے پہلے چھ ماہ کے دوران پڑھائے جائیں گے۔‘‘
نصابی کتاب میں ورنا نظام کو ابتدائی طور پر سماجی استحکام پیدا کرنے والا نظام کہا گیا
اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ورنا-جاتی نظام نے ابتدائی طور پر سماجی استحکام فراہم کیا تھا، لیکن بعد میں یہ سخت ہو گیا، خاص طور پر برطانوی راج کے تحت، جس سے عدم مساوات پیدا ہوئی۔ اس سال کے شروع میں پریاگ راج میں ہونے والے مہا کمبھ میلے کا بھی کتاب میں ذکر ملتا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح تقریباً 660 ملین لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ اس بھگدڑ کا کوئی ذکر نہیں ہے جس میں 30 زائرین ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
نئی نصابی کتاب میں میک ان انڈیا، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، اور اٹل ٹنل جیسے حکومتی اقدامات کے حوالے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ دریں اثنا این سی ای آر ٹی کی نصابی کتب کی تجدید کو اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو کہ ان اقدامات کو تعلیم نظام کے ’’بھگوا کرن‘‘ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…
کے ٹی ایل اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ملبے سے کم از کم ایک…
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…