قومی

Nagpur Violence Case: ناگپور فساد کے ملزم فہیم خان کے گھر پر چلا بلڈوزر،انتظامیہ نے صرف 24 گھنٹے کی دی تھی مہلت

ناگپور، مہاراشٹر میں تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اور اقلیتی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما فہیم خان کے گھر پر آج (24 مارچ) بلڈوزر کارروائی کی گئی ہے۔ فہیم خان کے گھر میں غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلایا گیا ہے۔ فہیم خان اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔ اب اس کے گھر کا غیر قانونی حصہ گرایا گیا ہے۔ناگپور میونسپل کارپوریشن (این ایم سی) نے اسے غیر قانونی تعمیر قرار دیا تھا اور فہیم خان کو 24 گھنٹے کے اندراسے ہٹانے کا نوٹس دیا تھا،اور ایسا نہ ہونے پر انتظامیہ نے  اب خود کارروائی کی ہے ۔ ناگپور میونسپل کارپوریشن کی کہ یہ کارروائی سنجے باغ کالونی میں واقع فہیم خان کے دو منزلہ مکان پر کی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب این ایم سی تشدد کے ملزم کی جائیداد کو بلڈوز کر رہی ہے۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے دو دن پہلے جب پوچھا گیا تھا کہ کیا یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ جیسا انصاف فراہم کرنے کا طریقہ مہاراشٹر میں بھی اپنایا جائے گا؟ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ ‘اگر قانون اجازت دے گا تو بلڈوزر چلے گا۔’ یاد رہے کہ این ایم سی نے 21 مارچ کو ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ فہیم خان کی اہلیہ ظاہر النساء کے نام پر رجسٹرڈ 86.48 مربع میٹر مکان غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیاہے۔

گزشتہ20 مارچ کو میونسپل حکام نے گھر کا معائنہ بھی کیا تھا اور مہاراشٹر ریجنل اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایکٹ 1966 کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیاتھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھر کے لیے کوئی بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ غیر قانونی تعمیرات کے زمرے میں آتا ہے۔ ہفتے کے روز، ناگپور پولیس نے فہیم خان کی اقلیتی ڈیموکریٹک پارٹی (ایم ڈی پی) سے تعلق رکھنے والے تشدد کے ملزمان کے ذریعے استعمال ہونے والی دو دکانوں کو بھی سیل کر دیا۔وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اتوار کو کہا کہ ناگپور میں کرفیو ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ شہر میں حالات مکمل طور پر پرامن ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ”ناگپور میں حالات پوری طرح پرامن ہیں۔ کہیں بھی کوئی تناؤ نہیں ہے۔ تمام مذاہب کے لوگ امن سے رہ رہے ہیں، اس لیے کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 17 مارچ کو تشددکے بعد کوتوالی، گنیش پیٹھ، تحصیل، لکڑ گنج، پچ پاؤلی، شانتی نگر، سکردرہ، نندن وان، امام باڑہ، یشودھرا نگر اور کپل نگر تھانے کے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ ناگپور کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر پتھراؤ اور آتش زنی  اس وقت ہوئی تھی جب یہ افواہ پھیلی کہ چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع میں واقع اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے وشو ہندو پریشد کی زیرقیادت احتجاج کے دوران مبینہ طور پرآیت لکھی ہوئی چادر کو جلا دیا گیا۔

ناگپور تشدد میں اب تک 112 ملزمان گرفتار

تشدد میں تین ڈپٹی کمشنر آف پولیس سطح کے افسران سمیت 33 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تشدد کے سلسلے میں ہفتے کے روز سات افراد کو گرفتار کیا گیا، جس سے حراست میں لیے گئے افراد کی کل تعداد 112 ہو گئی۔ اس سے قبل 20 مارچ کو نندن وان اور کپل نگر تھانے کے علاقوں سے اور 22 مارچ کو پچ پاؤلی، شانتی نگر، لکڑ گنج، سکردرہ اور امام باڑہ علاقوں سے کرفیو ہٹا دیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

POCSO Act Muslim Personal Law: مسلم پرسنل لا کا حوالہ دے کر پوکسو سے نہیں بچ سکتے، نابالغ بیوی سے تعلق پر دہلی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

جسٹس سنجیو نرولا کی سربراہی والی بنچ نے ایک معاملے میں کہا کہ ذاتی قانون…

8 minutes ago

Rain in Uttar Pradesh: اتر پردیش میں بارش اور طوفان کا قہر، 56 افراد ہلاک، 46 زخمی، سیتاپور میں سب سے زیادہ 7 اموات

گزشتہ 60 گھنٹوں کے دوران ریاست کے 56 اضلاع میں شدید بارش ریکارڈ، 107 مویشی…

28 minutes ago

Asian Games 2026: زیورات فروخت کرنے والی ہریتا بھدرا نے جاپان میں لہرایا ترنگا، 200 میٹر میں جیتا کانسے کا تمغہ

 بھارت کی اسٹار اسپرنٹر ہریتا بھدرا نے جاپان میں خواتین کی 200 میٹر فائنل ریس…

1 hour ago