قومی

Murshidabad Riots: مرشدآباد فسادات معاملے میں عدالت کا فیصلہ، باپ-بیٹے کے قتل کیس میں 13 مجرموں کو سنائی عمر قید کی سزا

کولکاتا: مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کی جنگی پور سب ڈویژن عدالت نے منگل کے روز وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران اپریل میں ہرگو بندو داس اور ان کے بیٹے چندن داس کے قتل کے معاملے میں 13 قصورواروں کو سزا سنائی۔ سب ڈویژن عدالت کے جج امیتابھ مکھرجی نے پیر کے روز 13 افراد کو قصوروار قرار دیا تھا۔ منگل کے روز عدالت کے احاطے میں سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان انہیں سزا سنائی گئی۔ مقتول باپ اور بیٹا مرشدآباد ضلع کے جنگی پور پولیس ضلع کے تحت شمسیرگنج تھانہ علاقہ کے جعفرآباد گاؤں کے رہنے والے تھے۔

جن 13 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، ان کے نام دلدار نادب، اسماعیل نادب، انجام الحق، ضیاءالحق، فخرل شیخ، اظفرل شیخ، منیرل شیخ، اقبال شیخ، نورل شیخ، صبا کریم، حضرت شیخ، اکبر علی اور یوسف شیخ ہیں۔

ہلاکتوں کے پیچھے سیاسی مقصد نہیں: جج

پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے جج نے ریمارک دیا تھا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا بلکہ یہ ذاتی انتقام کا نتیجہ تھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دعویٰ کیا کہ جج کے تبصرے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ قتل وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف احتجاج کی آڑ میں عوام کو گمراہ کرنے اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش تھے۔

ایس آئی ٹی نے 13 افراد کو کیا تھا گرفتار

ریاستی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے ان 13 افراد کو ایک ایک کرکے گرفتار کیا تھا۔ سال کے آغاز میں ایس آئی ٹی نے اس معاملے میں 900 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی تھی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ باپ اور بیٹے کا قتل گاؤں میں فسادات کو روکنے کی کوشش کے دوران ہوا۔ ایس آئی ٹی نے اس حملے کو پہلے سے منصوبہ بند قرار دیا ہے۔

مقتول باپ اور بیٹے کے اہل خانہ نے ترنمول کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ معاوضے کو مسترد کر دیا تھا۔ حالانکہ، انہوں نے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سووندو ادھیکاری کی جانب سے پیش کردہ معاوضہ قبول کر لیا۔

اپریل میں کلکتہ ہائی کورٹ نے مرشدآباد فسادات کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے قیام کی ہدایت دی تھی اور ساتھ ہی علاقے میں مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی تعیناتی کا بھی حکم دیا تھا۔

جسٹس سومین سین اور جسٹس راجہ بسو چودھری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ بھی ریمارک دیا تھا کہ فرقہ وارانہ بدامنی کو قابو میں کرنے کے لیے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات ناکافی تھے، اور اگر سی اے پی ایف کو پہلے ہی تعینات کر دیا جاتا تو صورتحال اتنی ’سنگین‘ اور ’غیر مستحکم‘ نہ ہوتی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

57 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

1 hour ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago