قومی

Modi government is based on the thinking of Deendayal Upadhyay: مودی حکومت کے اقدامات سے 26 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے اوپر اٹھے، حکومت کی حکمرانی دین دیال اُپادھیائے کے فکر پر مبنی: دنیش شرما

لکھنؤ: راجیہ سبھا رکن اور اترپردیش کے سابق نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے پندت دین دیال سیوا پریشد کی جانب سے منعقدہ دین دیال جینتی پروگرام میں بطور مقرر کہا کہ دین دیال اُپادھیائے کی فکر ہی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں کا مرکز ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت ایک قومی حکومت ہے جو 140 کروڑ عوام کے جذبات کے مطابق کام کر رہی ہے۔

غریبوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ مودی حکومت عام آدمی کی بنیادی ضروریات کو پورا کررہی ہے۔ وزیراعظم نے دین دیال جی کے عزم کو اپناتے ہوئے 25 دسمبر تک خود انحصار اور دیسی بھارت مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مکان، گیس سلینڈر، راشن، بیت الخلا، آبپاشی کی سہولت اور مفت علاج کے لیے آیوشمان کارڈ جیسی سہولتیں حکومت نے اسی نظریے کے مطابق فراہم کی ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت 26 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے اوپر اُٹھ چکے ہیں۔

خود انحصار بھارت اور دیسی کا پیغام

سابق نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ خود انحصار بھارت کا پیغام دین دیال جی کے انٹگرل ہیومنزم پر مبنی ہے۔ دین دیال اُپادھیائے نے دیسی معیشت کا تصور دیا تھا، جسے وزیراعظم مودی حقیقت میں ڈھال رہے ہیں۔ یہ سلسلہ دین دیال جی سے شروع ہوکر اٹل بہاری واجپائی سے گزرتا ہوا آج وزیراعظم مودی تک پہنچا ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا، مدرا لون اور دیگر اسکیموں نے نوجوانوں کو خود کفیل بنایا ہے۔ کووڈ وبا کے دوران بھارت نے پہلی مرتبہ اپنی ویکسین تیار کی، جو ایک تاریخی کامیابی تھی۔

دین دیال اُپادھیائے کی زندگی اور قوم پرستی

پروگرام کے مہمان خصوصی، راجستھان کے سابق گورنر کلراج مشرا نے کہا کہ سِرجن (تخلیق) ہی دین دیال جی کی زندگی کا محور تھا اور ان کے لیے ملک سب سے اوپر تھا۔ اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ ایک انتخاب بھی ہار گئے تھے۔ وہ ہمیشہ کارکنوں کی فکر کرتے تھے۔ ڈاکٹر مکھرجی کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے ایک اور دین دیال مل جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

معاشی نظریہ اور نیا جی ایس ٹی

کلراج مشرا نے کہا کہ دین دیال اُپادھیائے کا معاشی نظریہ معاشرتی ناہمواریوں کو دور کرنے والا تھا۔ ان کے مطابق غریب کی اشیاء پر کم اور عیش و عشرت کی اشیاء پر زیادہ ٹیکس لگنا چاہیے۔ وزیراعظم مودی نے اسی سوچ کے مطابق نئے جی ایس ٹی قوانین نافذ کیے ہیں، جس کے تحت عام اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ کی اشیاء سستی ہو گئی ہیں۔

پروگرام میں شریک شخصیات

سہکاری بھون، لکھنؤ میں منعقدہ اس سمینار میں مہمان خصوصی کلراج مشرا اور ڈاکٹر دنیش شرما نے خطاب کیا۔ اس موقع پر سہکاری وزیر جے پی سی راٹھور، سابق رکن قانون ساز کونسل شیام نندن، رکن قانون ساز کونسل سنتوش سنگھ، بی جے پی ہیڈکوارٹر انچارج بھارت دکشت، ریاستی وزیرنانک جی، سدھاکر ترپاٹھی، رمیش طوفانی اور پریشد کے صدر پروین مشرا سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago