نئی دہلی: مرکزی کابینہ نے منگل کے روز آٹھویں پے کمیشن کی تشکیل کو باقاعدہ منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ لاکھوں مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشن یافتگان کے لیے بڑی راحت لے کر آیا ہے۔ 2016 میں تشکیل دیے گئے ساتویں پے کمیشن کی سفارشات 2026 میں ختم ہو رہی ہیں، اسی لیے نیا کمیشن وقت پر قائم کیا گیا ہے۔ کابینہ نے کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (حوالہ جاتی شرائط) کی منظوری دی ہے، جن میں تنخواہوں کے ڈھانچے، بھتوں اور پنشن میں ممکنہ ترامیم شامل ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام ملازمین کی فلاح و بہبود کے تئیں وزیر اعظم نریندر مودی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
رنجنا پرکاش دیسائی آٹھویں پے کمیشن کی سربراہی کریں گی
سابق سپریم کورٹ جج رنجنا پرکاش دیسائی کو آٹھویں پے کمیشن کی صدر نامزد کیا گیا ہے۔ وہ ایک تجربہ کار جج رہی ہیں جنہوں نے 2013 سے 2014 تک سپریم کورٹ میں خدمات انجام دیں۔ ان کی تقرری سے کمیشن کی شفافیت اور اعتبار میں اضافہ ہوگا۔ دیسائی نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ کمیشن ملازمین کی توقعات کو سامنے رکھتے ہوئے منصفانہ سفارشات پیش کرے گا۔ دیگر ارکان کی تقرری جلد کی جائے گی، جن میں مالیاتی و انتظامی امور کے ماہرین شامل ہوں گے۔
سابق سپریم کورٹ جج رنجنا پرکاش دیسائی۔
کمیشن کا دائرۂ کار اور سفارشات کی تیاری
ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق، آٹھواں پے کمیشن بنیادی تنخواہ کے ڈھانچے، مہنگائی بھتہ (DA)، ہاؤس رینٹ الاؤنس (HRA) اور ٹریول الاؤنس (TA) کا ازسرنو جائزہ لے گا۔ یہ کمیشن ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کا بھی تجزیہ کرے گا اور موجودہ معاشی صورتحال، مہنگائی اور سرکاری مالیاتی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی سفارشات تیار کرے گا۔ کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے 18 سے 24 ماہ کا وقت دیا گیا ہے، جس کے دوران ملازمین کی یونینوں سے مشاورت اور مختلف سرکاری محکموں سے اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں گے۔
عمل درآمد کی تاریخ اور ممکنہ اثرات
آٹھویں پے کمیشن کی سفارشات یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوں گی۔ امکان ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوگا، جب کہ پنشن یافتگان کو بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ حکومت نے کہا ہے کہ سفارشات کو مالی توازن برقرار رکھتے ہوئے تیار کیا جائے گا تاکہ خزانے پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سرکاری اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا، لیکن اس سے پیداواریت (Productivity) میں بھی بہتری آئے گی۔
ملازمین اور یونینوں کا ردعمل
اس فیصلے سے 50 لاکھ سے زائد مرکزی ملازمین اور 65 لاکھ پنشن یافتگان کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ ملازمین کی یونینوں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے تنخواہوں میں مزید اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں کمیشن اپنی باقاعدہ میٹنگوں کا آغاز کرے گا اور رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…
یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…
اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…
اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی، ذات سے متعلق مبینہ توہین آمیز…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میچ میں موقع نہ ملنے کے درمیان 15…
ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ…