قومی

Modi Cabinet Reshuffle: مودی کابینہ میں بڑے رد و بدل کی تیاری، دھرمیندر پردھان کی ہو سکتی ہے چھٹی، نتن گڈکری اور نرملا سیتھا رمن کے محکمے بدلنے کے امکانات

رام مندر چندہ چوری اور پٹرول میں ایتھانول کی آمیزش جیسے مختلف معاملات پر اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کر رہی مودی حکومت کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں کہ وہ آئندہ چند روز میں مرکزی کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سیشلز کے دورے سے واپسی کے بعد اس حوالے سے فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ممکنہ کابینہ رد و بدل میں کئی سینئر وزراء کے قلمدان تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ نتن گڈکری، نرملا سیتھا رمن، ہردیپ سنگھ پوری اور منوہر لال کھٹر کے محکموں میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سابق آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس کو مرکزی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے اور انہیں وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے راگھو چڈھا کو مرکزی کابینہ میں اہم ذمہ داری مل سکتی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق انہیں مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری کی جگہ دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دھرمیندر پردھان کے مستقبل پر بھی قیاس آرائیاں

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو کابینہ سے باہر کیا جا سکتا ہے یا ان سے وزارتِ تعلیم واپس لی جا سکتی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری نرملا سیتھا رمن کو دی جا سکتی ہے، جبکہ شکتی کانت داس کو وزارتِ خزانہ سونپی جا سکتی ہے۔ دھرمیندر پردھان گزشتہ کچھ عرصے سے نیٹ (NEET) پیپر لیک اور یوجی سی (UGC) کے ضوابط میں تبدیلی جیسے معاملات پر اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت عوامی ناراضی کو کم کرنے کے لیے کابینہ میں تبدیلی کر سکتی ہے، تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔

نئے چہروں کی شمولیت کے امکانات

ذرائع کے مطابق ممکنہ کابینہ توسیع میں کئی نئے چہروں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان میں راگھو چڈھا کے علاوہ سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کی واپسی اور ترنمول کانگریس چھوڑنے والے سکھندو شیکھر رائے کو بھی ذمہ داری دیے جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور موجودہ راجیہ سبھا رکن نتیش کمار کو مرکزی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے کے صاحبزادے شری کانت شندے کو بھی وزارت ملنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ تاہم یہ تمام اطلاعات فی الحال ذرائع اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔ مرکزی حکومت یا وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے کابینہ میں کسی بھی ممکنہ رد و بدل یا نئی تقرریوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

4 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

5 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

5 hours ago