قومی

Misuse of cruelty law: شوہر سے بدلہ لینے کیلئے قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے اور جہیز کے نام پر پھنسانے کا رجحان بڑھ رہا ہے:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے خواتین کی طرف سے اپنے شوہروں اور خاندانوں کے خلاف دائر ازدواجی تنازعہ کے مقدمات میں قانون کے غلط استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اسے ذاتی انتقام کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے یہ مشاہدہ اس وقت کیا جب ایک شخص اور اس کے خاندان کے خلاف دفعہ 498 (A) کے تحت دائر ظلم کے مقدمہ کو خارج کر دیا۔ سیکشن 498(A) یا سیکشن 86 انڈین کوڈ آف جسٹس کے تحت شادی شدہ خواتین کو شوہر یا اس کے رشتہ داروں کے ذریعہ ظلم کا نشانہ بننے سے بچاتا ہے۔ اس قانون کے تحت ملزم کو تین سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ خاتون نے یہ مقدمہ  شوہر کی جانب سے شادی کو منسوخ کرنے کی درخواست دائر کرنے کے بعد دائر کیاہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے معاملات میں خاندان کے افراد کے ناموں کا ذکر ان کے ملوث ہونے کا ثبوت فراہم کیے بغیر فوجداری مقدمہ چلانے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ 498(A) کو متعارف کرانے کا مقصد ریاست کی طرف سے فوری مداخلت کو یقینی بناتے ہوئے اس کے شوہر اور اس کے خاندان کے ذریعہ کسی خاتون کے ساتھ ظلم کو روکنا تھا۔عدالت نے کہاکہ  حالیہ برسوں میں ملک بھر میں ازدواجی تنازعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس کے ساتھ ازدواجی زندگی میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور تناؤ کی وجہ سے دفعہ 498 (A) جیسی دفعات کا غلط استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس قانون کو بیوی اپنے شوہر اور اس کے خاندان کے خلاف ذاتی انتقام لینے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اس طرح کے معاملات میں مبہم اور عام الزامات لگانے سے قانونی عمل کا غلط استعمال ہوگا اور بیوی اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے  ایک ہتھیار کے طور پر اس  کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات بیوی کے غیر معقول مطالبات کو پورا کرنے کے لیے شوہر اور اس کے اہل خانہ کے خلاف دفعہ 498(A) لگانے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، اس عدالت نے شوہر اور اس کے خاندان کے خلاف مقدمہ چلانے کے خلاف بار بار خبردار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کیس کو خارج نہ کرکے سنگین غلطی کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ مقدمہ بیوی کی جانب سے ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

9 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

9 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

10 hours ago