قومی

National Conference in Lucknow: وکست بھارت 2047@ کی مضبوط بنیاد رکھنے میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا فیصلہ کن کردار، لکھنؤ میں منعقدہ قومی کانفرنس میں پالیسی، تعلیم اور سماجی قیادت کا مؤثر امتزاج

لکھنؤ: وکست بھارت 2047@ کے ہدف کے حصول میں اقلیتی تعلیمی ادارے محض شریک کار نہیں بلکہ فیصلہ کن ستون کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ مضبوط پیغام بدھ کے روز لکھنؤ میں منعقدہ ایک روزہ قومی کانفرنس کے دوران واضح طور پر سامنے آیا۔ یہ کانفرنس محکمہ اقلیتی فلاح، حکومت اترپردیش اور قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے (NCMEI)، حکومت ہند کے مشترکہ اشتراک سے چودھری چرن سنگھ آڈیٹوریم، سہکارتا بھون، لکھنؤ میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا موضوع تھا: ’’اتحاد، ثقافتی تنوع اور قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار: وکست بھارت 2047@‘‘۔ کانفرنس کے مختلف سیشنز میں اس امر پر وسیع اتفاق رائے قائم ہوا کہ 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ، جامع اور ثقافتی طور پر خوشحال قوم بنانے کے لیے حکومتوں، ضابطہ ساز اداروں، جامعات اور سماجی برادریوں کے درمیان کثیر فریقی اشتراک ناگزیر ہے۔ مباحث پالیسی اصلاحات، بہترین تعلیمی طریقوں اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی حکمت عملیوں پر مرکوز رہے۔

تعلیم ہی وکست بھارت کی بنیاد ہے: دانش آزاد انصاری

اس موقع پر دانش آزاد انصاری، وزیر اقلیتی فلاح، حکومت اتر پردیش نے کہا کہ وزیراعظم کا وکست بھارت کا عزم طویل المدتی اور مسلسل کوششوں سے ہی پورا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی تقریباً 20 فیصد آبادی اقلیتی طبقات پر مشتمل ہے جو ایک بڑی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر اس طبقے کو معیاری تعلیم اور ہنر مندی سے جوڑا جائے تو وکست بھارت کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وکست بھارت کی مضبوط اور خوبصورت عمارت کی بنیاد تعلیم ہے اور اس میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔

مضبوط پل کی طرح ہے NCMEI: پروفیسر نعیمہ خاتون

پروفیسر نعیمہ خاتون، وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ NCMEI مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ایک مؤثر پل کے طور پر کام کر رہا ہے، جس سے پالیسیوں کے بہتر نفاذ میں مدد مل رہی ہے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو استحکام حاصل ہو رہا ہے۔

بھارت کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں ہے: اندریش کمار

اندریش کمار، مارگ درشک، مسلم راشٹریہ منچ نے کہا کہ خدا ایک ہے، نام مختلف ہو سکتے ہیں، اور مذہب کے نام پر تصادم کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اتحاد، تعلیم، اخلاقیات اور انسانیت میں مضمر ہے۔ مذاہب مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مقصد ایک ہے ایک ذمہ دار، ایماندار اور بااختیار شہری بن کر ملک کو مضبوط کرنا۔

اقلیتی ادارے سماجی ہم آہنگی کی مثال بن سکتے ہیں: شاہد اختر

 شاہد اختر ایگزیکٹو چیئرمین، NCMEI نے کہا کہ بھارت کا ثقافتی ورثہ نہایت زرخیز اور متنوع ہے اور اقلیتی تعلیمی ادارے وِکست بھارت مشن میں تبدیلی لانے والا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثریتی اور اقلیتی طبقات کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے نفرت کو ختم کر کے اتحاد کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اور تعلیمی ادارے اس سلسلے میں رول ماڈل بن سکتے ہیں۔

تنوع بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے: انکت اگروال

انکت اگروال، آئی اے ایس نے کہا کہ بھارت کا تنوع اس کی کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ تعلیم سماجی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اس قومی کانفرنس کی نظامت کرنل طاہر مصطفیٰ، رجسٹرار، جامعہ ہمدرد نے کامیابی کے ساتھ انجام دی۔ یہ قومی کانفرنس اقلیتی تعلیمی اداروں کو وِکست بھارت 2047@ کے اجتماعی سفر میں ایک فعال اور لازمی شراکت دار کے طور پر مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dr. Khalid Raza Khan

Recent Posts

Football Player Kajra Murmu Dies: فٹبال میدان میں خوفناک حادثہ! میچ کے دوران ٹکر سے بے ہوش ہوا کھلاڑی، علاج کے دوران موت

بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…

51 minutes ago

Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ

کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…

56 minutes ago

Kunal Ghosh Car Attack: ’مجھے واپس لوٹنے کے لیے کہا جا رہا تھا‘، ٹی ایم سی رکن اسمبلی کونال گھوش کی گاڑی پر حملہ، ممتا بنرجی نے کی مذمت

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…

1 hour ago

Uttar Pradesh Heavy Rain: یوپی میں 50 گھنٹے سے طوفانی بارش کا قہر، 17 افراد جاں بحق، 32 اضلاع میں سیلاب کا خطرہ

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…

2 hours ago