نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ سے نئی دہلی میں اہم ملاقات کی، جس میں دونوں لیڈروں نے بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان بڑھتی ہوئی جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی، سپلائی چین کی مضبوطی اور ہند-بحرالکاہل خطے میں استحکام جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا ایک آزاد، کھلے، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے قیام کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ کا استقبال کرکے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ مودی کے مطابق دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی روابط اور سپلائی چین کو مستحکم بنانا دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے جاپان کے وزیر خارجہ توشی متسو موٹیگی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھارت اور جاپان کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل اور اس سے باہر امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں بھارت اور جاپان کے تعلقات انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
منگل کو منعقدہ کواڈ اجلاس کے دوران آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ کواڈ ممالک خطے کے لیے کئی نئی پہل شروع کر رہے ہیں۔ ان میں توانائی سلامتی، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون اور فجی میں بندرگاہی انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کواڈ کا مقصد صرف بات چیت تک محدود رہنا نہیں بلکہ ایسے عملی نتائج فراہم کرنا ہے جن سے خطے کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ پینی وونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطہ اس وقت پیچیدہ اسٹریٹجک اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے خطے کے ممالک کو قابل اعتماد شراکت داروں اور متبادل راستوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی صورتحال پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہے جبکہ اقتصادی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات توانائی کی فراہمی، عالمی معیشت اور عام شہریوں پر مرتب ہوں گے۔ پینی وونگ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ان کوششوں کو بھی سراہا جو سمندری راستوں کی آزادی برقرار رکھنے اور توانائی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں عالمی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی انتہائی ضروری ہو گئی ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…