ممبئی: مہاراشٹر میں منگل 11 اگست سے گائے اور بھینس دونوں کے دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ ملک پروڈیوسرز اینڈ پروسیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے لیا گیا ہے۔ دودھ پیدا کرنے والوں اور پروسیسرز کی جانب سے گائے اور بھینس کے دودھ کے نرخوں میں نظرثانی کے بعد ریاست بھر کے صارفین پر اس اضافے کا اثر پڑنے کی توقع ہے۔ یہ فیصلہ دودھ کی قیمتوں اور ڈیری کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صارفین کو بڑھتی قیمتوں کے منفی اثرات سے بچانے کے حوالے سے جاری بات چیت کے درمیان کیا گیا ہے۔
دودھ کے لیے ایم ایس پی کی تجویز سے انکار
دریں اثنا، گزشتہ ماہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ دودھ کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) مقرر کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ دودھ کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی صورتِ حال کے مطابق کوآپریٹیو اداروں اور نجی ڈیریوں کی جانب سے کیا جاتا رہے گا۔ لوک سبھا میں ایک ستارہ نشان والے سوال کے تحریری جواب میں ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے کہا کہ فی الحال دودھ کی قیمتیں کوآپریٹیو ادارے اور نجی ڈیریاں طے کرتی ہیں اور اس کے لیے ایم ایس پی مقرر کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
دودھ پیدا کرنے والوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات
وزیر نے کہا کہ حکومت دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے مفادات کے تحفظ، دودھ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے، صارفین کے مفادات کی حفاظت اور ملک بھر میں معیار کی نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کے مطابق، زیادہ سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والوں کو منظم شعبے میں شامل کرنے کے لیے مارچ 2026 تک گاؤں کی سطح پر 36,283 نئی ڈیری کوآپریٹیو سوسائٹیاں قائم کی جا چکی تھیں، جبکہ 31,150 سوسائٹیوں کو مضبوط بنایا گیا۔ اس کے علاوہ روزانہ 168 لاکھ لیٹر دودھ کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے اور معیار کی جانچ کے لیے 76,748 آلات تقسیم کیے گئے ہیں۔ حکومت نے روزانہ 418 لاکھ لیٹر دودھ کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی مجموعی صلاحیت والے منصوبوں کو بھی منظوری دی ہے۔
دس برس میں دودھ کی پیداوار میں تقریباً 69 فیصد اضافہ
حکومت کے مطابق ہندوستان نے 2024-25 میں 248 ملین میٹرک ٹن دودھ پیدا کیا، جبکہ 2014-15 میں یہ پیداوار 146 ملین میٹرک ٹن تھی۔ اس طرح گزشتہ دس برسوں کے دوران دودھ کی پیداوار میں تقریباً 69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس اضافے کا سہرا نسل کی بہتری، جینیاتی اصلاح، مفت مصنوعی تخم ریزی، جنس کے لحاظ سے چھانٹے گئے سیمن اور اِن وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) جیسے اقدامات کو دیا ہے۔ حکومت کے مطابق اب تک 17.27 کروڑ مصنوعی تخم ریزی کی جا چکی ہے، جس سے اس کی کوریج 20 فیصد سے بڑھ کر 42 فیصد ہوگئی اور دودھ کی پیداواریت میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…