تہران: اسرائیلی میڈیا کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت نازک ہونے اور انہیں اسپتال منتقل کیے جانے کے دعووں کے چند روز بعد ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے ایک بغیر تاریخ کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر صحت مند نظر آ رہے ہیں۔ مہر نیوز نے یہ ویڈیو پہلی بار جاری کی ہے۔ ایرانی حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والی یہ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرانی حکومت کی اسلامی ترقیاتی تنظیم کے زیر انتظام ہے۔ ویڈیو کے اجرا کو مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو مسترد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Iran has released footage of @MojtabaKhamen amid growing speculation over the health and whereabouts of Iran’s #SupremeLeader. The development comes as reports continue to claim that #Khamenei has been out of public view and in poor health, while Iranian officials have denied… pic.twitter.com/rHYVouPUUQ
— Upendrra Rai (@UpendrraRai) August 9, 2026
اسرائیلی میڈیا نے صحت کو ’انتہائی نازک‘ قرار دیا تھا
اس سے قبل جمعہ کو اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت ’’انتہائی نازک‘‘ ہے۔ چینل 14 نے ایران کے اندر موجود ذرائع کے حوالے سے جبکہ ’دی یروشلم پوسٹ‘ نے ایران وائر اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی انتظامیہ کے قریب ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی قیادت میں ان کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے حوالے سے ایک ذریعے نے یہاں تک دعویٰ کیا تھا کہ ’’ہمیں جلد ان کی شہادت کی خبر سننے پر حیرت نہیں ہوگی۔‘‘
علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنے تھے مجتبیٰ
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے 28 فروری کو مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں میں مارے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر کسی تقریب میں نظر نہیں آئے اور ان کی جانب سے رابطہ صرف تحریری بیانات کے ذریعے کیا گیا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی حملوں میں ان کے والد کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنائے جانے کے دوران وہ زخمی ہوئے اور ممکنہ طور پر ان کے چہرے کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے بعد انہیں روپوش ہونا پڑا اور مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیش نظر وہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے رابطے کے لیے ثالثوں کے ایک سست نیٹ ورک پر انحصار کر رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے مقام اور صحت سے متعلق قیاس آرائیاں جاری
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست رابطہ اس وقت ’’بہت مشکل‘‘ ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی میڈیا رپورٹس میں مسلسل ان کے مقام اور ملک کی قیادت کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ جولائی میں سعودی خبر رساں ادارے الحدث نے ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’’ایران میں نہیں ہیں‘‘۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کو ختم کردیا گیا ہے اور فوجی کارروائی کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای ’’90 فیصد ختم‘‘ اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے معذور ہیں۔
ایرانی حکام نے شدید زخمی ہونے کی خبروں کو مسترد کیا
ایرانی سرکاری حکام اس سے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کے ابتدائی زخموں کی شدت کو کم کرکے بیان کرتے رہے ہیں۔ تاہم براہِ راست عوامی سطح پر ان کی مسلسل عدم موجودگی اور صرف تحریری بیانات کے ذریعے رابطے نے ان کی صحت اور قیادت کے استحکام سے متعلق علاقائی اور بین الاقوامی قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی ہے۔ مغربی اور اپوزیشن ذرائع سے وابستہ انٹیلی جنس رپورٹس میں بارہا دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں شدید یا چہرے کو متاثر کرنے والے زخم آئے ہیں، جس کے باعث وہ براہِ راست عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور صرف تحریری بیانات پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران کی وزارتِ صحت کے نمائندوں نے پہلے ان کے ابتدائی زخموں کو معمولی قرار دیا تھا، جبکہ اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ملک کے لیے اسٹریٹجک نگرانی اور عملی ہدایات فراہم کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…