قومی

Ghazipur Literature Festival: اُپندر رائے کا غازی پور لٹریچر فیسٹ میں پیغام — ” ہمیں  اپنی جڑوں کی طرف لوٹنا ہوگا، خطرہ، انجانیت اور چیلنج ہی زندگی کی اصل آتما

غازی پور لٹریچر فیسٹیول 2025 جمعہ کو وارانسی کے ہوٹل دی کلارکس میں شروع ہوا۔ تین روزہ عظیم الشان فیسٹیول کا افتتاح بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور چیف ایڈیٹر اپیندر رائے نے دیپ جلا کر کیا۔  لٹریچر فیسٹیول کے آغاز کے ساتھ ہی آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا اور ماحول مکمل طور پر ثقافتی رنگوں میں ڈوب گیا۔
غازی پور لٹریچر فیسٹ کے افتتاحی اجلاس میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے نے ایک ایسا خطاب کیا، جس نے پورے ہال کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ وارانسی کے ہوٹل “دی کلارکس” میں منعقد اس تین روزہ ادبی تقریب میں ملک و بیرونِ ملک کے ممتاز ادبا، محققین اور ثقافتی شخصیات شریک ہوئیں۔

اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے اپیندر رائے نے بھارت ایکسپریس اور بھارت ڈائیلاگ کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں اپنی بات ہندی زبان میں کہنا زیادہ سہل لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ادب انسان کے سچ، حسن اور خیر کی بہترین تعبیر ہے، اسی لیے ایسے ادبی میلوں کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے۔”

انہوں نے بھارتی ادب کو قدیم روایت قرار دیتے ہوئے راجکوی چند بردائی، میرا بائی، کبیر اور تلسی داس جیسے شعرا کا ذکر کیا اور کہا کہ “ادب ہی ہندوستان کی تہذیبی آتماہے۔”

خطاب کے دوران اپیندر رائے نے گرو نانک دیو جی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “سچا علم تبھی ممکن ہے، جب انسان کے دل میں عاجزی اور خالی جگہ باقی رہے تاکہ نیا علم جذب ہو سکے۔”

انہوں نے موجودہ تعلیمی نظام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “گزشتہ سو برسوں سے ہماری تعلیم صرف معلوماتی ہو کر رہ گئی ہے، جو روزگار تو دے سکتی ہے، مگرآتما کی ترقی نہیں کر سکتی۔” ان کا کہنا تھا کہ “اصل تعلیم وہی ہے جو انسان کے ذہن کا میل صاف کر کے اسے نیا بنائے۔”

اپیندر رائے نے کہا کہ غازی پور نے بھارتی ادب کو ڈاکٹر کبیر ناتھ رائے، ویویکی رائے، ڈاکٹر پی این سنگھ اور ڈاکٹر بھولاناتھ گہماری، جیسے نابغۂ روزگار ادبا عطا کیے ہیں، جن سے ان کی ذاتی ملاقاتیں ان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔

انہوں نے ہندومت اور سناتن روایت کی گہرائی بیان کرتے ہوئے کہا کہ “یہی واحد روایت ہے، جو آتماکی نجات یعنی موکش کی بات کرتی ہے، جب کہ دیگر مذاہب سورگ و نرک کے تصورات تک محدود رہ جاتے ہیں۔”

اپیندر رائے نے سو مناتھ مندر کی سائنسی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے سناتن میں صدیوں سے سائنس اور روحانیت کی ہم آہنگی رہی ہے۔”

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا، “جب زندگی میں سب کچھ پختہ ہو جائے تو آتما کی نشوونما رک جاتی ہے۔ ہمیں جڑوں کی طرف لوٹنا ہوگا، خطرہ، انجانیت اور چیلنج ہی زندگی کی اصل آتماہیں۔ ہر انسان اپنی نگاہ سے دنیا کو دیکھتا ہے، اور جیسا اس کا دل ہوتا ہے، ویسی ہی دنیا اسے دکھائی دیتی ہے۔”

غازی پور لٹریچر فیسٹ کے افتتاحی اجلاس میں دیا گیا اپیندر رائے کا یہ خطاب ادب، روحانیت اور ثقافت کے امتزاج کا آئینہ دار ثابت ہوا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

3 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

5 hours ago