مولانا محمود مدنی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا ہے۔
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے ضلع دہرادون کے وکاس نگرعلاقے کے بیراگی والا گاؤں میں پیش آمدہ افسوسناک قتل اوراس کے بعد کی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل ایک سنگین جرم اورانسانیت کے خلاف عمل ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مقتول ونود کشیپ کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں کوبلا امتیازقانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہئے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس قسم کے واقعات کے بعد پورے سماج کو متحد ہو کراہل خانہ کی ہمددردی اورمجرموں کے خلاف ہونا چاہئے، لیکن افسوس کہ بعض شرپسند اورفرقہ پرست عناصرنے اس سانحہ کے بعد علاقے میں زہرگھول دیا ہے اورلوگوں کوبانٹنے کا کام کیا ہے۔
قتل کی غیرجانبدارانہ اورشفاف تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ
جمعیۃ علماء دہرادون کی جانب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق واقعہ کے بعد مسلمانوں سے وابستہ گھروں، دکانوں اورگاڑیوں کونذرِآتش کیا گیا، گاؤں میں واقع مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور خوف کی فضا کے باعث کئی خاندان اپنے گھروں کوچھوڑنے پرمجبورہیں۔ اس سلسلے میں وکاس نگرایم ایل اے مناسنگھ چوہان کی زہرافشانی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ان حالا ت پرمرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قتل کے مقدمہ کی غیرجانبدارانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائیں، اصل مجرموں کوقرارواقعی سزا دی جائے، فرقہ وارانہ تشدد، نفرت انگیز تقاریراوراشتعال انگیزسرگرمیوں پرفوری روک لگائی جائے، خوف وہراس کے باعث نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے، متاثرہ علاقوں میں امن وامان اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بحالی کے لیے مؤثراقدامات کیے جائیں، آتش زنی، توڑپھوڑاورمذہبی مقامات پرحملوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اورمتاثرہ خاندانوں کوان کے نقصانات کا مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اورمقتول کے اہل خانہ کوبھی معاوضہ دیا جائے۔
بے قصورشہریوں کے تحفظ کا مطالبہ
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کو ارسال کیے گئے مکتوب کی نقول اتراکھنڈ کے گورنر، وزیراعلیٰ، ڈائریکٹرجنرل آف پولیس اورسینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس دہرادون کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ مکتوب میں اتراکھنڈ حکومت، ضلعی انتظامیہ اورپولیس حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک جانب اصل مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے کو یقینی بنائیں اوردوسری جانب تمام بے قصورشہریوں کے جان ومال کے تحفظ، خوف وہراس کے ماحول کے خاتمے اورنفرت، تشدد اورفرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے والے عناصرکے خلاف بلا امتیازکارروائی کو یقینی بنائیں۔
فرقہ وارانہ دباؤکے تحت کی گئی بلڈوزرکارروائی
مولانا محمود مدنی نے اس بات پرگہری تشویش کا اظہارکیا کہ ملزم کے مکان پرقانونی تقاضوں اورمقررہ عدالتی وانتظامی عمل کومکمل کئے بغیرمحض فرقہ وارانہ دباؤکے تحت بلڈوزر کارروائی کی گئی۔ اس نوعیت کی کارروائیاں آئین ہند، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ ہندوستان ایک آئینی جمہوریت ہے جہاں سزا کا تعین عدالتیں کرتی ہیں، نہ کہ مشتعل ہجوم یا عوامی دباؤ۔ قانون سے ماورا کسی بھی اقدام سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں بلکہ عوام کا قانونی نظام پراعتماد بھی کمزورپڑتا ہے۔
جمعیۃ علماء دہرادون نے مولانا محمود مدنی سے کی ملاقات
قبل ازیں آج صبح جمعیۃ علماء ضلع دہرادون کے ایک وفد نے مرکزی دفترجمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی پہنچ کرصدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعدمدنی سے ملاقات کی اورعلاقے کی صورتحال پرمشتمل ایک تحریری رپورٹ پیش کی۔ وفد میں جمعیۃ علماء ضلع دہرادون کے صدر مولانا معصوم قاسمی، جنرل سکریٹری مولانا گلشیر، خازن مفتی خوشنود علی، صدر شعبۂ جیم دہرادون مفتی ناظم اشرف اور جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ ضلع دہرادون مولانا نورالٰہی شامل تھے۔ مولانا مدنی نے جمعیۃعلماء کے ذمہ داروں کو ہدایت دی کہ و ہ امن وامان کے قیام میں ہرممکن تعاون کریں اورمتاثرہ خاندانوں کواخلاقی وسماجی مدد فراہم کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کے تمغوں کی تعداد 30 ہوگئی، 4 گولڈ، 12…
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…