قومی

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو لے کر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے اس اعلان پر سوال اٹھایا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 2029 سے پہلے این ڈی اے کی حکومت والی تمام ریاستوں میں یو سی سی نافذ کر دیا جائے گا۔ مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ اعلان ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے کہ ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈے سے؟

مذہبی آزادی ختم کرنے کی کوشش کا الزام

انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنا آئین کی بالادستی اور شہریوں کو حاصل مذہبی آزادی کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ جمعیۃ علماء ہند ملک کے سیکولر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی لیے تنظیم نے یو سی سی کے خلاف اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اسے امید ہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا۔ مولانا ارشد مدنی نے بتایا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں اب تک اس معاملے پر چھ سماعتیں ہو چکی ہیں اور جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔

شریعت کے خلاف کوئی قانون قبول نہیں

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں کر سکتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن اپنے مذہب اور دین سے ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔ ان کے مطابق حکومت یو سی سی کے ذریعے مسلمانوں سے وہ حقوق چھیننا چاہتی ہے جو ملک کے آئین نے انہیں دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نہیں ہیں بلکہ قرآن مجید اور حدیث سے لیے گئے ہیں۔ جو لوگ کسی مذہبی پرسنل لا کے تحت اپنے معاملات نہیں چلانا چاہتے، ان کے لیے ملک میں پہلے ہی متبادل شہری قوانین موجود ہیں۔ ایسے میں لازمی یکساں سول کوڈ کی ضرورت کیوں ہے؟

قبائلی علاقوں کو چھوٹ تو مسلمانوں کو کیوں نہیں؟

مولانا ارشد مدنی نے ایک اور اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آئین کی دفعات کے تحت درج فہرست قبائل کو اس قانون سے استثنا دیا جا سکتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی کا احترام کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ یو سی سی کے نام پر یہ امتیاز کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف مسلم پرسنل لا تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے سیکولر آئین کو اس کی بنیادی روح کے ساتھ برقرار رکھنے سے متعلق ہے۔ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور سیکولرازم کا مطلب یہی ہے کہ حکومت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ملک کے شہری اپنے مذہبی معاملات میں آزاد ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسا یو سی سی جو مذہبی آزادی میں مداخلت کرے، مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

’ایک ملک، ایک قانون‘ کے نعرے پر بھی سوال

حکومت کے ’ایک ملک، ایک قانون‘ جیسے نعروں پر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بھارت کا قانونی نظام خود مختلف ریاستوں میں کئی معاملات پر الگ الگ قوانین کی اجازت دیتا ہے۔ فوجداری قوانین میں بھی ریاستی سطح پر فرق اور خصوصی دفعات موجود رہی ہیں، جبکہ گئو کشی سے متعلق قوانین بھی پورے ملک میں یکساں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا تو پرانا مطالبہ رہا ہے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دے کر پورے ملک میں اس کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ مولانا ارشد مدنی نے الزام لگایا کہ یو سی سی نافذ کرنے کا مقصد شہریوں کی مذہبی آزادی پر پابندی عائد کرنا اور ان کے آئینی حقوق کو محدود کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

33 minutes ago

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

3 hours ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

4 hours ago