نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ محض ووٹرلسٹوں کی نظر ثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اورآئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرہرشہری کوبارباراپنی شہریت اورحقِ رائے دہی ثابت کرنے پرمجبور کیا جائے تویہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اورشہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ماضی میں بھی ووٹرلسٹوں کی نظرثانی ہوتی رہی ہے، مگرموجودہ ایس آئی آراپنی نوعیت، طریق کاراورممکنہ نتائج کے اعتبارسے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ لاکھوں شہری سرکاری دفاترکے چکرلگانے، مختلف دستاویزات جمع کرنے اورشدید ذہنی اضطراب کا شکارہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں یہ یقین نہیں کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں برقراررہے گا۔ اگرووٹ کا آئینی حق سرکاری صوابدید کا محتاج بن جائے تو یہ جمہوری نظام کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہوگا۔
حقِ رائے دہی پرسوالات کھڑے کرنا جمہوریت پرایک سنگین دھبہ: مولانا ارشد مدنی
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ابتدا ہی میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ موجودہ ایس آئی آر کہیں این آرسی کی ایک نئی شکل ثابت نہ ہواوراب مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی اطلاعات ان خدشات کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری آزادانہ، منصفانہ اورشفاف انتخابات کا انعقاد ہے، نہ کہ شہریوں کی شہریت کا تعین کرنا۔ اگرووٹرلسٹ سے نام خارج ہونا عملی طورپرشہریت پرسوالیہ نشان بن جائے تویہ آئینی حدود سے تجاوزہوگا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ لگتا ہے کہ ایس آئی آرکی آڑمیں حقیقی شہریوں کوووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اورمتعدد ریاستوں میں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 27 لاکھ ووٹروں کو مشکوک قراردینا اوران کے حقِ رائے دہی پرسوالات کھڑے کرنا جمہوریت پرایک سنگین دھبہ ہے۔ ان کے مطابق دستیاب رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جس سے پورے عمل کی غیرجانب داری کے دعوے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
مسلمانوں سمیت تمام شہریوں میں بیداری کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ ایس آئی آرکے اگلے مراحل شروع ہو چکے ہیں، اس لیے مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کوغیرمعمولی بیداری، قانونی شعوراوراحتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ تمام ضروری دستاویزات پہلے سے تیار رکھے جائیں اور فارم کسی جلد بازی یا لاپروائی کے ساتھ ہرگز جمع نہ کیا جائے، کیونکہ معمولی تکنیکی غلطی بھی بعد میں سنگین قانونی پیچیدگی پیدا کرسکتی ہے۔ مولانا مدنی نے یقین دلایا کہ جمعیۃعلماء ہند حسبِ سابق ملک بھر میں اپنے رضاکاروں، وکلاء اور قانونی ماہرین کے ذریعے عوام کی رہنمائی، دستاویزات کی جانچ اور قانونی معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ کوئی بھی شہری لاعلمی یا تکنیکی خامی کی بنیاد پر اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم نہ ہو۔
مسلم ووٹ کے اثرکوکمزور کرنے کا ایک ذریعہ: جمعیۃ علماء ہند
انہوں نے کہا کہ یہ تاثرمضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ووٹرلسٹوں کی نظرثانی کا عمل محض انتخابی فہرستوں کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ بعض حلقوں میں اسے مسلم ووٹ کے اثرکوکمزورکرنے کے ایک ذریعہ کے طورپربھی دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے آسام کی نئی حلقہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انتخابی حلقوں کی ازسرِنوتقسیم سے مسلم ووٹ کے اثرکوکمزورکرنے کے خدشات ظاہرکیے گئے تھے اوراب اندیشہ ہے کہ دیگرریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جب انتظامیہ اور دیگر ادارے انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو سپریم کورٹ عوام کی آخری امید ہوتی ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالتِ عظمیٰ آئین کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور انتخابی نظام کی شفافیت کے تحفظ کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کرے گی۔
جمعیۃ علماء ہند نے آسام میں لاکھوں ہندواورمسلم خاندانوں کو مدد فراہم کی
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آسام میں این آرسی کے دوران جمعیۃ علماء ہند نے ایک تاریخی قانونی جدوجہد کی تھی، جس کے نتیجے میں لاکھوں ہندواورمسلم خاندانوں کو قانونی امداد فراہم کی گئی اوربے شمارہندوستانی شہریوں کو غیر ملکی قرار دیے جانے سے بچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ کی یہ جدوجہد کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ آئین، انصاف اورہرہندوستانی شہری کے وقار کے تحفظ کے لیے تھی۔ مولانا مدنی نے اخیرمیں کہاکہ اگر ایس آئی آر کے نام پر کسی بھی شہری کے حقِ رائے دہی یا دیگر آئینی حقوق پر ضرب لگانے کی کوشش کی گئی تو جمعیۃ علماء ہند ہرقانونی، آئینی اورجمہوری محاذ پر پوری قوت کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ ہرشہری کا ووٹ محفوظ رہے، آئین کی بالادستی برقراررہے اورکسی بھی ہندوستانی کو بلاجواز اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…