جمعیۃ علماء ہند نے مدارس اسلامیہ کے خلاف یوپی حکومت کی طرف سے کی جارہی کارروائی کے لئے بڑا منصوبہ تیارکیا ہے۔
نئی دہلی: مدارس اسلامیہ کے خلاف اترپردیش میں یوگی حکومت کی جانب سے سخت کارروائی جاری ہے، اس کی وجہ سے سینکڑوں مدارس پرتالا لگا دیا گیا ہے اورکئی مقامات پرمدارس کومنہدم کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے مختلف سطح کی جانچ کی جارہی ہے اور پھران کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جارہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے اس پورے معاملے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوگی حکومت اوریوپی پولیس کی طرف سے کی جارہی کارروائی توہین عدالت کے مترادف ہے۔ جمعیۃعلماء ہند نے یوپی کی یوگی حکومت کی اس کارروائی کے خلاف خلاف اپنا شدید احتجاج درج کرانے اورمدارس کے ذمہ داروں کے صلاح ومشورہ سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کی غرض سے یکم جون 2025کو اعظم گڑھ کے سرائے میرمیں واقع جامعہ شرعیہ فیض العلوم میں ’تحفظ مدارس کنونش‘منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کنونشن میں تمام مسالک کے مدارس کے ذمہ داران اورعہدیداران کوشرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ کنونش کے انعقاداورانتظام کی تمام ترذمہ داری جمعیۃعلماء اترپردیش کے صدرمولانا اشہدرشیدی کو سونپی گئی ہے، جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی اس کنونشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔
مدارس کے خلاف کارروائی پرسپریم کورٹ نے لگائی تھی پابندی
قابل ذکرہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی کی پٹیشن پر21 اکتوبر2024 کوسابق چیف جسٹس وی آئی چندرچوڑکی سربراہی والی 3 رکنی بینچ نے مدارس اسلامیہ کے خلاف کسی بھی کاروائی پراوران تمام نوٹسوں روک لگا دی تھی، جومختلف ریاستوں خاص طورپر اترپردیش حکومت کے ذریعہ مدارس کوجاری کئے گئے تھےاوراس میں کہا گیا تھا کہ عدالت کی طرف سے مزید نوٹس جاری کئے جانے تک کی مدت کے دوران اس تعلق سے اگرکوئی نوٹس یا حکم نامہ مرکزیا ریاست کی طرف سے جاری ہوتا ہے تواس پربھی بدستورروک جاری رہے گی۔ جمعیۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ عدالت کی پابندی کے بعد بھی ایک بارپھرمدارس کے خلاف نئی شرانگیزمہم شروع ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس روک کے باوجوداترپردیش کے ان تمام مسلم اکثریتی اضلاع میں جن کی سرحد نیپال سے ملتی ہیں مدارس ہی نہیں درگاہوں،عیدگاہوں اورقبرستانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں دھڑلے سے نہ صرف جاری ہے بلکہ اب تک سینکڑوں مدارس کوغیرقانونی قراردے کرسیل کیا جاچکا ہے اورذرائع کے مطابق متعدد مدارس کومسماربھی کیا جارہا ہے۔ افسوس کی بات تویہ ہے کہ درست کاغذات ہونے کے باوجودیہ مہم جاری ہے جس کولیکر مسلمانوں میں سخت تشویش اورخوف ودہشت کی لہرپھیل گئی ہے۔
مسلمانوں کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کی کوشش: مولانا ارشد مدنی
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ افسوس پچھلے کچھ برسوں کے دوران جس اندازکی سیاست ملک میں ہوئی ہے اس سے مسلمانوں کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹے مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلیمی اداروں یعنی مدارس کوبھی نشانہ پرلے لیا گیا تاکہ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کوسیاسی طورپر کمزورکردیا جائے بلکہ انہیں مذہبی تعلیم سے بھی ہرممکن طریقہ سے محروم رکھا جائے، نیزاس مہم کے پیچھے سیاست کارفرما ہے، یہ مہم نہ صرف سپریم کوٹ کی ہدایات کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے ذریعہ آئین کی ان دفعات کو بھی پیروں تلے روندنے کی کوشش ہو رہی ہے، جس میں اقلیتوں کواپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اورانہیں چلانے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ آئین کی دفعہ 30(1) کے تحت تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کوجہاں تحفظ دیا گیا ہے، وہیں دفعہ 25 کے تحت ضمیرکی آزادی اور 26 کے تحت اقلیتوں کواپنی مذہبی تعلیمی اداروں کے انتظام وانصرام کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ بھی متواتر یہ تبصرہ کرتی رہی ہے کہ ان دفعات کے تحت اقلیتوں کوجو اختیارات دیئے گئے ہیں اس میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ 2014 میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ حق تعلیم ایکٹ 2009 کا اطلاق ان تعلیمی اداروں پرنہیں ہوگا جواقلیتوں کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں اورساتھ ہی اس کی دفعہ 1(5) ایکٹ کی کوئی شق بھی مدارس، پاٹھ شالہ، گوروکل اوراسی طرح کے دیگرتعلیمی اداروں پرلاگو نہیں ہوگی۔
مدارس کے تحفظ کے لئے جامع اورمؤثرحکمت عملی تیارکرنے کا منصوبہ
جمعیۃ علماء ہند کے صدرنے کہا کہ یہ مہم مسلمانوں کی مذہبی آزادی پرایک سنگین حملہ ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی، یہ وقت مسلکی اختلافات میں الجھنے کا نہیں بلکہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا ہے کیونکہ مدارس کے خلاف جومہم شروع ہوئی ہے اس میں تمام مسالک کے مدرسے شامل ہیں۔ جمعیۃعلماء ہند کا ماننا ہے کہ پہلے اتراکھنڈ اوراب اترپردیش میں غیرقانونی قراردے کرمدارس کوبندکرنے کی جومہم شروع کی گئی ہے یہ بہت خطرناک ہے ابھی یہ نیپال کے سرحدی اضلاع میں ہی شروع ہوئی ہے، لیکن کل کونہ صرف اس کا دائرہ بڑھ سکتا ہے بلکہ نئے مدارس کے قیام میں بھی دشواریاں پیدا کی جاسکتی ہیں، حالانکہ یہ بات تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ انگریزوں کی غلامی سے ملک کو آزاد کرانے کی مہم علماء نے ہی شروع کی تھی، یہ علماء مدرسوں کے ہی پیداوارتھے۔ یہی نہیں دارالعلوم دیوبند قائم ہی اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے اورملک کو آزادکرانے کیلئے مجاہدپیداکئے جائیں جو لوگ مدارس کے خلاف یہ سب کررہے ہیں وہ لوگ مدارس کے کردار سے نابلد ہیں۔جمعیۃ علماء ہند کا تعلق مدارس اسلامیہ سے ہے،ہمارے سارے اکابر یہی سے پڑھ کر باہر نکلے،درحقیقت جمعیۃ علماء ہند مدارس اسلامیہ کی آوازاوران کا ذہن ہیں۔ فرقہ پرست طاقتیں اس تاریخ سے بھی نابلد ہیں کہ یہ مدارس علماء ہی ہیں کہ جب پوری قوم سو رہی تھی تو انہوں نے ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کا صور پھونکا تھا۔
پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام ’بزم صحافت‘ کے تحت منعقدہ ’اردو صحافت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر سی آر پاٹل کی جانب سے لکھا گیا…
بہار قانون ساز کونسل کی 4 گریجویٹ اور 4 ٹیچر حلقوں سمیت کل 8 نشستوں…
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…